اگلے دن میں ہسپتال گیا تو سلمہ وہاں پر نہیں تھی ۔ 9

اگلے دن میں ہسپتال گیا تو سلمہ وہاں پر نہیں تھی ۔

اگلے دن میں ہسپتال گیا تو سلمہ وہاں پر نہیں تھی ۔

میں نے سوچا تھوڑی دیر تک. آ جائے گی لیکن کافی دیر گزرنے کے. بعد بھی وہ نہ آیی تھوڑی دیر بعد کرن آیی لیکن .اس نے میری طرف بلکل ن دیکھا وہ ابھی .بھی مجھ سے غصہ تھی میں نے سلمہ کو کال کی .لیکن اس سے میری بات نہ ہو سکی میں. جانتا تھا کے احمد نے اس کو منع کر دیا ہو گا. سارا دن مجھے کافی بیچینی ہو رہی تھی .کے سلمہ کچھ هود کو کر نہ بیٹھے یہی سوچ رہا تھا. کے فون کی گھنٹی بجی میں نے فون. اٹھایا تو میرے بولنے سے پہلے ہی کرن بولی. سلمہ میرے کمرے میں اؤ میں نے کہا وہ یہاں. پر نہیں ہے وہ بولی کچھ فائل سلیم صاحب کو .بیجوانی تھی میں نے کہا میں آ جاتا ہوں. وہ بولی ٹھیک ہے

تم آ جو میں فون بند کیا اور اس کے کمرے کے باہر جا کر میں نے دروازے پر دستک دی تو وہ بولی اندر آ جاؤ میں اندر چلا گیا اس نے میری طرف دیکھ بغیر ہی مجھے اشارہ کیا یہ فائل سلیم صاحب کو دے دینا میں جیسے ہی فائل اٹھانے کے لئے جھکا تو وہ میرے کل والے زحم دیکھ کر بولی یہ کیا ہوا ہے  تم کو وہ جلدی سے اپنی کرسی سے کھڑی ہو گئی ور مجھے شانوں سے پکڑ کر بیٹھا دیا اور میرے میرے زحم پر ہاتھ لگا کر بولی کتنی چوٹ لگی ہے تم کو کیا ہوا ہے میں نے کہا کچھ نہیں ہووے اور اٹھنے لگا تو اس نے پھر سے بیٹھا دیا اور بولی کیسے کچھ نہی ہوا اتنی زیادہ چوٹ لگی ہوئی ہے اس نے پہلے لگی ہوئی پٹی اتاری اور بولی کتنا گہرا زحم ہے

اگلے دن میں ہسپتال گیا تو سلمہ وہاں پر نہیں تھی ۔

تم ور طبی امداد والے ڈبے میں سے سپرٹ نکالی اور بارے آرام سے میرا زحم۔ صاف کیا اور بڑے پیار سے پٹی باندھنے لگی مجھے چاہیے تو تھا کے اس کو هود سے دور کر دیتا لیکن میری اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی کے میں اس کو منع کر دوں جب وہ پٹی لگا چکی تو بولی کیا ہوا ہے میں نے کہا کل چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو  گیا تھا وہ حیرانی سے مجھے دیکھتے ہووے بولی اچھا اگر تم۔ نہیں بتانا چاہتے تو ٹھیک ہے میں خاموش رہا میں نے کہا کے میں۔ تم کو کچھ بتانا چاہتا ھوں وہ بولی کیا بتانا چاہتے ہو میں نے کہا کے میں شادی کرنے والا ہوں وہ خاموشی سے تذبذب والی نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی

وہ کچھ نہ بولی میں۔ نے۔ کہا تم پوچھو گی نہیں کس سے تو وہ ہلکی سے آواز سے اور بری مشکل سے بولی کس سے میں نے کہا کے سلمہ۔ سے وہ کچھ نہ بولی اور بولی تم۔ اب جا سکتے ہو میں نے کہا مگر وہ بولی تم جا سکتے ہو میں نے فائل اٹھائی اور واپس آ گیا میں نے فائل سلیم صاحب کو دی اور واپس اپنی جگہ پر آ گیا اس کے بعد مجھے کرن نہ دکھائی دی میں نے صرف شام کو جب گھر جانے لگا تو وہ مجھے سلیم صاحب کے ساتھ راہداری میں نظر آے میں نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں سرح ہو رہی تھیں میں۔ جانتا تحص وہ میرے کمرے سے نکلنے کے۔ بعد روئی ہو گی میں نے نظریں نیچے کر لیں

اگلے دن میں ہسپتال گیا تو سلمہ وہاں پر نہیں تھی ۔

شام۔ کو جب گھر .گیا تو کھانا کھانے کے بعد میں اپنے کمرے میں. پوھنچا تو سلمہ نے مجھے کال کی میں نے. پوچھا کیا حال ہے تم آج ہسپتال کیوں نہیں یی. تو وہ رونے لگی اور بولی میں اب کبھی بھی. نہیں اؤں گی میں نے کہا تم۔ اس طرح رو .تو نہ نہ ہوا کیا ہے وہ تو بتاؤ وہ کہنے لگی .کے مجھے ماں نے قسم دی ہے کے اگر میں. نے احمد سے شادی سے انکار کیا تو وہ مجھ سے. ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رشتہ توڑ دیں گی .اور میری کبی شکل بھی نہی دیکھیں گی مجھ .میں اتنی ہمت نہیں کے میں۔ تمہارا سامنا. کر سکوں اس لئے میں آج کے بعد نہیں اؤں گی اور .کال بند کر دی اگلے دن میں ہسپتال گیا .تو سلمہ آج بھی نہیں تھی

آیی میں نے کال کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے کال نہ اٹھائی  کرن بھی مجھے ایک دو دفعہ ہی نظر آیی لیکن اس نے مجھ سے کوئی بات نہ کی صرف ایک دفعہ میرے پاس سے گزر رہی تھی تو وہ بولی اب چوٹ کیسی ہے میں نے کہا ٹھیک ہے اور وہ چلی گئی شام کو میں گھر گیا تو چچا نے بتایا کے آج اسما بول رہی ہے کے کھانا بھر جا کر کھائیں  گے میں نے کہا تو پھر کیا ہے اگر میری گڑیا کا باہر جا کر کھانا کھانے کا دل ہے تو بھر چلیں گے ہمارے نزدیک ہے ایک بہت اچھا ریسٹورینٹ تھا میں چچا اور اسما وہاں پر چلے گئے ہم۔ اوہی تھوڑی دیر ہے بیٹھے ہوں گے کے مجھے اپنے عقب سے آواز آیی میں نے پہلے تو دہن نہ دیا

اگلے دن میں ہسپتال گیا تو سلمہ وہاں پر نہیں تھی ۔

لیکن پھر اچانک مجھے محسوس ہوا کے اس انسان کو میں جانتا ہوں یہ سلمہ کے ماموں کا بیٹا تھا اور اس کی پیٹھ میری طرف اور میری پیٹھ اس کی طرف تھی اس کے بولنے سے ہی مجھے پتا چلا تھا میں نے پلٹ کر دیکھا ہو حیران ہو گیا وہ ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا لڑکی بہت موڈرن لگ رہی تھی اس نے لڑکوں کی طرح شرٹ اور پتلون پہنی ہوئی تھی میرا دل تو کیا کے اس کا گریبان پکڑو اور اس سے پوچھو کے وہ iاس لڑکی کے ساتھ کیا کر رہا ہے لیکن میں اس کی باتیں سن کر چونک گیا لڑکی بول رہی تھی اگر تم نے اس جاہل سے شادی کرنی تھی تو پھر میرے ساتھ کیوں شادی کے وعدے کیے تھے تم مجھے پہلے ہی بتا دیتے تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے

وہ بولا شائستہ تم یہ کیسی باتیں کر رہی ہو میں تمھیں دھوکہ دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا یہ شادی تو صرف میں پھوپو کی جائیداد حاصل کرنے کے لئے کر رہا ہوں یہ سب کچھ میں تمہارے اور اپنے لئے کر رہا ہوں وہ بولی اگر تم نے مجھے دھوکہ دیا تو میں تمھیں چھوڑو گی نہیں اور یہ جو میرے پیٹ میں تمہاری نشانی۔ ہے میں اس کے بارے میں تمہاری سری فیملی کو بتا ڈان گی وہ بولا میں بول رہا ہوں نہ کے میں تمھیں کبھی بھی کسی قیمت پر دھوکہ نہیں دوں گا اس احمد نے شائستہ کو کافی تسلی دی تو وہ  کچھ مطمئن ہو گئی تھی وہ تھوڑی دیر بعد چلے گئے میں چچا اور اسما جب گھر واپس آے تو میں ایک نئی ہے

اگلے دن میں ہسپتال گیا تو سلمہ وہاں پر نہیں تھی ۔

سوچ میں تھا سری رات یہ سوچتا رہا کے اگر سلمہ کی شادی اس کے ساتھ ہو گئی تو وہ بیچاری تو اپنے آپ کو مار دے گی میں نے سوچا کے صبح جا کر احمد سے بات کروں گا***

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں