اگلے دن ہسپتال جا کر ہسپتال کے فون سے اس کو کال کی۔ 12

اگلے دن ہسپتال جا کر ہسپتال کے فون سے اس کو کال کی۔

اگلے دن ہسپتال جا کر ہسپتال کے فون سے اس کو کال کی۔

تھوڑی دیر بعد سلمہ نے کال اٹھا لی میری آواز سنتے ہے اس نے فون رکھنے کی کوشش کی لیکن میں نے کہا میری صرف ایک دفع بات سن لو وہ رونے لگی اور بولی میں۔ اب کیا سنو میں تمہارا سامنا کرنے کا قابل نہیں  ہوں میں نے کہا میں صرف ایک دفع احمد سے بات کرنا۔ چاہتا ہوں تم مجھے اس کا نمبر دو اس نے کہا نہیں تم کو ان چیزوں میں گھسنے کی ضرورت نہیں تم بس مجھے معاف کر دو اور ان۔ باتوں سے دور رہو میں نے کہا صرف ایک دفع بات کرنے دو اس سے اس کے بعد میں کبھی بھی تمہاری کسی بات میں نہیں اؤ گا اس نے مجھے احمد کا نمبر دے دیا میں نے احمد کو کال کی تو وہ بولا کون تو میں نے اپنا اس کو بتایا

تو وہ بیزار سے لہجے میں بولا تم نے مجھے کیوں کال کی ہے میں نے کہا میں تم سے ملنا چاہتا ہوں وہ بولا لیکن میں نہی چاہتا اور کال بند کر دی میں نے دوبارہ کال کی اور کہا میری بات سونو میں تمہارے فائدے کی ہے بات کر رہا ہوں وہ بولا ہاں  بتاؤ میں نے کہا میں نے کل تم کو ریسٹورینٹ میں کسی کے ساتھ دیکھا تھا وہ تھوڑا سا گڑ بڑایا لیکن جلد ہی سمبھل کر بولا تو پھر میں نے کہا میں نے کسی کو تمہارے ساتھ بھی دیکھا تھا میرے حیال سے اس کا نام شائستہ تھا وہ بولا میں کسی شائستہ کو نہیں جانتا میں نے کہا تم مجھ سے ملو پھر میں بتاتا ہوں وہ کہنے لگا کہاں ملنا چاہتے  ہو میں نے کہا جہاں تم کل شائستہ کے ساتھ ہے تھے

اگلے دن ہسپتال جا کر ہسپتال کے فون سے اس کو کال کی۔

وہاں پر ہی آج شام کو سات بجے اور میں۔ نے کال بند کر دی شام کو چھٹی کرنے کے بعد میں اسی ریسٹورنٹ میں چلا گیا احمد وہاں پر پہلے سے ہے موجود تھا اس میں بھی اس کے پاس ہے جا کر بیٹھ گیا اس نے میری طرف دیکھا اور بولا ہاں بتاؤ کیا بات کرنی ہے میں نے کہا دیکھو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کے تم کس کے ساتھ گھومتے ہو یا کس کے ساتھ نہیں لیکن میں تم کو ایک بات بتا دو سلمہ بہت معصوم ہے اور میں۔ نہیں چاہتا تم اس کے ساتھ کسی قسم کا دھوکہ کرو اچھا یہی ہو گا کے تم هود ہے سلمہ کو اور اس کی ماں کو بتا دو ورنہ میں سب کو بتا دوں گا وہ مسکرانے لگا اور بولا کے تم اس کو کیا بتاؤ گے تمہارے پاس کیا ثبوت ہے

میں نے میں تم کو آحری دفع سمجھا رہا ہوں تم سلمہ سے دور رہو تم صرف اس کی جائیداد کے لئے اس کی زندگی تباہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے ہو اس نے کہا کون ک جائیداد میں نے کہا وہی جس کے بارے میں تم شائستہ کو بتا رہے تھے وہ غصہ سے اٹھا اور بولا میں سلمہ سے شروع  سے ہے پیار کرتا تھا لیکن اس نے مجھے کبھی بھی پیار نہیں کیا لیکن اب میں اس کو کسی قسم پر نہیں چھوڑ سکتا اور میں نے کہا تو شائستہ کے پیٹ میں وہ بچہ جو تمہارا ہے اس نے کہا میں نے تو نہیں اس کو بولا تھا کے وہ میرے ساتھ پیر کرے یا میرے بچے کی ماں بنے اس میں اس کی اپنی مرضی بھی شامل تھی اور تم میرے اور سلمہ سے دور رہو ورنہ تم بہت پچھتاؤ گے

اگلے دن ہسپتال جا کر ہسپتال کے فون سے اس کو کال کی۔

اور احمد اٹھ کر چلا گیا میں. سوچنے لگا کے یہ کس قدر بےغیرت شحص. ہے اس کو کوئی فرق نہیں پارٹس اگر. کسی کی زندگی حراب ہو جائے میں. اٹھا اور اپنے گھر آ گیا میں اگلے دن صبح صبح سلمہ. کے گھر چلا گیا میں نے سلمہ کے مامو فیاض .کو کہا کے میں اپ سے بات کرنا چاہتا ہوں. وہ بولے ہاں بیٹا بتاؤ کیا بات کرنا. چاہتے ہو میں نے کہا میں کچھ اکیلے میں اپ سے. بات کرنا چاہتا تھا وہ بولے اچھا آ جو وہ مجھے .اپنے ساتھ لے کر ایک کمرے میں لے آے. میں دروازہ بند کر دیا وہ بولا ہاں بیٹا. اب بتاؤ کیا بتانا ہے میں نے کہا کے چچا جی میں اپ. کی بہت عزت کرتا ہوں اور اپ کے بیٹے سے .مجھے کوئی سروکار نہیں ہے لیکن اپ کا. بیٹا سلمہ کو دھوکہ دے رہا ہے

میں نے اس کو کسی. اور لڑکی کے ساتھ دیکھا ہے اور اس. لڑکی کا نام شائستہ ہے اور وہ لڑکی احمد. کے بیٹے کی ماں بننے والی ہے چچا .ایک غصہ سے اٹھے اور بولے بیٹا میں تمہاری بڑی عزت .کرتا ہوں لیکن تم نے یہ جو بات کی ہے. میرا دل تو کر رہا ہے کے میں تمہیں جان .سے مار دوں لیکن میں اپنی بہن کے .گھر ہوں اس وجہ سے تم کو کچھ نہیں بول رہا اٹھو اور یہاں سے .نکل جو میرا بیٹس جانتا ہے اگر. اس نے میرے فیصلے کی خلاف ورزی کی. تو میں هود اس کو جن سے مار دوں. گا اور وہ کبی بھی اس طرح کی حرکت نہیں کر سکتا میں نے کہا .مگر وہ۔ بولے تم اب یہاں سے. جا سکتے ہو اور آیندہ مجھ سے ملنے کی. کوشش بھی نہ کرنا نکل جاؤ یہاں .سے میں۔  جانتا تھا

اگلے دن ہسپتال جا کر ہسپتال کے فون سے اس کو کال کی۔

میں ان کو اب اس وقت نہیں سمجہ سکتا اس لئے میں وہاں سے آ گیا میں۔ گھر کے سہن۔  سے گزرا تو سلمہ بولی حیدر میں۔ نے۔ چاۓ بنائی ہے تو میرے کہنے سے پہلے ہی چچا فیاض بولے نہیں بیٹا ان۔ کو دیر ہو رہی ہے یہ چاۓ. بعد میں پی لیں گے میں وہاں سے ہسپتال آ گیا کچھ دیر گزری تو مجھے کرن۔ نظر آیی وہ بولی کیس بات ہے تم اتنے پریشان کیوں ہو میں نے کہا کچھ نہیں میں تو نہیں۔ ہوں پریشان  وہ بولی۔ میں جانتی ہوں تم مجھ سے بات کرنا نہیں پسند کرتے لیکن میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں میں پہلے ہی غصہ میں تھا میں نے کہا جب تم جانتے ہو میں تم سے بات کرنا نہیں چاہتا تو پھر تم بار بار کیوں مجھے تنگ کرنے آ جاتی ہو جاؤ چلی جاؤ یہاں سے میں یہی سوچتا رہا

کے اب چچا فیاض کو یقین کیسے دلواؤں کے احمد سلمہ کے ساتھ ساتھ ان کو بھی دھوکہ دے رہا ہے میں شام کو گھر گیا تو مجھے پریشن دیکھ کر بولے کیا بات ہے بیٹا بیٹا کس بات سے پریشان ہو میں نے سب کچھ چچا کو بتا دیا وہ بولے بیٹا یہ تو بہت بڑا مسلہ ہے یہ صرف اسی سے حل ہو سکتا ہے کے تم کسی طریقے سے شائستہ کو تلاش کرو اور اس کو احمد کے باپ کے سامنے پیش کرو اور وہ سری سچائی سب کو بتاے چچا نے بلکل سہی کہا تھا میں نے  اگلے دن ہسپتال سے چھٹی کی اور سلمہ کے گھر کے کی طرف چل پڑا کافی دیر اس کے گھر کے پاس کھڑا رہا تھوڑی دیر بعد احمد مجھے بائیک پر جاتا ہوا نظر آیا میں نے اس کا پیچھا کرنا۔ شروح کر دیا

اگلے دن ہسپتال جا کر ہسپتال کے فون سے اس کو کال کی۔

میں نے منہ پر ہیلمٹ پہنا ہوا تھا اس لئے اس کو بلکل  بھی پتا نہ چلا تھوڑی دیر بعد وہ ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے بائیک کھڑی کر کے اندر چلا گیا میں باہر ہے کھڑا ہو گیا کافی دیر کھڑا رہا لیکن وہ باہر نہ آیا مجھے اب یقین ہو گیا تھا کے ہو نہ ہو یہ شائستہ کا ہی گھر ہے صبح سے دوپہر ہو گئی لیکن وہ ابھی بھی اندر تھا میں ایک دکان پر بیٹھا ہوا تھا احمد اندر سے نکلا اور بائیک پر بیٹھ کر چلا گیا جب وہ میری نظر سے اوجھل ہو گیا تو میں آہستہ سے چلتا ہوا اس گھر میں چلا گیا جہاں  سے احمد نکلا تھا میں نے دروازے پر دستک دی تو تھوڑی دیر بعد اندر سے شائستہ نے دروازہ کھولا میں  نے کہا میں حیدر ہوں وہ بولی تو اپ یہاں کیا کرنے آے ہیں

میں نے کہا کے میں اپ کے اور اور احمد کے بارے میں۔ بات کرنے آیا  ہوں  وہ بولی اپ مجھے اور احمد کو کیسے جانتے ہیں میں نے کہا میں اپ کو سب کچھ بتاتا ہوں لیکن یہاں بات کرنا مناسب نہیں وہ تھوڑا سا ہچکچائی لیکن پھر اس نے مجھے اندر انے کا بول دیا مجھے اس نے بٹھایا اور میرے لئے پانی لے آیی اور بیٹھتے ہووے بولی جی بولیں۔ کیا بات کرنا چاہتے ہیں اپ میں نے کہا کے احمد اپ کو دھوکہ دے رہا ہے اس نے اپ سے شادی نہیں کرنی اور نہ ہی وہ اس بچے کو اپنے گا وہ غصے سے اٹھی اور بولی تم کون ہوتے ہو احمد کے بارے میں بات کرنے والے میں نے کہا مجھے هود اس نے بولا ہے وہ بولی تم بکواس کر رہے ہو ایسا کبھی نہی ہو سکتا

اگلے دن ہسپتال جا کر ہسپتال کے فون سے اس کو کال کی۔

میں نے کہا میں ثابت کر سکتا ہوں وہ بولی مجھے نہیں ضرورت تم یہاں سے جا سکتے ہو میں نے کہا پلز هود کو بھی اور سلمہ کو بی س سے بچا لو وہ بولی یہ سب کچھ کیا بول رہے ہو تم میں نے کہا کے سلمہ مجھ سے پیار کرتی ہے لیکن احمد کے باپ کو بچپن کی دی ہوئی زبان۔ کی وجہ سے اس کو اپنی ماں کی بات ماننی پڑ رہی ہے تم بھی تو لڑکی ہو کیا تم کسی لڑکی کی زندگی تباہ کر کے خوش رہ سکتی ہو وہ بولی مجھے نہیں سمج آ  رہی میں۔ نے کہا تم میرے ساتھ چلو اس کے باپ کے پاس سب کچھ پتا چل جائے گا کے وہ تم سے کتنا پیار کرتا ہے اور کتنا نہیں اگر میں غلط ہوا تو میں زندگی میں کبھی بھی تم دونوں کے درمیان نہیں اؤ گا

میں تم سے سب کچھ سچ کہ رہا ہوں میں ابھی ثابت کرتا ہوں میں نے فون نکالا اور احمد کو کال کی شائستہ وہاں سے جانے لگی تو میں نے کہا ایک دفعہ بات تو سن لو وہ بیٹھ گئی میں نے احمد سے بولا کے سلمہ کو کبھی بھی نہیں حاصل کر سکتے میں ایسا نہیں ہونے دوں گا وہ غصے سے بولا تم جو کچھ کر سکتے ہو کر لو اگر سلمہ میری نہیں ہو سکتی تو کسی اور کی بھی نہیں ہونے دوں گا****

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں