برطانوی آثار قدیمہ کا راز اور اس کی معلومات۔ 11

برطانوی آثار قدیمہ کا راز اور اس کی معلومات۔

برطانوی آثار قدیمہ کا راز اور اس کی معلومات۔

درودز کے متعلق زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں جو ہیں ان میں مذہب ، جادو اور خون آشام وحشت کا راج ہے اس قبیلے کے دو ہزار سال قبل شمالی یورپ میں آثار ملتے ہیں ۔ درودز کے متعلق تاریخ میں کوئی بھی ثبوت ایسا نہیں ہے جس پر تمام ماہرین متفق ہوں  درودز دراصل ہیں کون اور کیسے تھے انکا طرز زندگی کیا تھا اس سب کی بجائے اگر کچھ موجود اور تاریخ دانوں کے علم میں ہے تو وہ انگلینڈ میں موجود صرف انکی مخصوص جگہیں ہیں ۔ پندرہویں صدی میں جب قوموں کے لئے اپنے آباو و اجداد کو مضبوط اور طاقتور ظاہر کروانا ضروری لگنے لگا تو انگلینڈ والوں نے اسی خواہش میں درودز کی بہادری اور مضبوطی کو اپنا ماضی مان لیا

اور 1740ء میں ایک .پادری ویلیم سٹکلے نے سٹون ہینج کی طرز. پر موجود اس ٹیمپل کو 460 قبل مسیح میں اپنے آباو. اجداد درودز کی جانب سے تعمیر کردہ قرار. دے دیا ۔ سٹون ہینج چونکہ سیلٹک. برٹش درودز کی تعمیر کردہ ہیں تو اس ٹیمپل .کو بھی انھوں نے اہمیت دینے کے لئے سٹون ہینج سے .منسوب کر دیا یہ بھی سٹون ہینج کی. طرح یارک شائر کے علاقے میں ہے. اسلئے ان کے ساتھ منسوب کرنے میں آسانی رہی . انگلینڈ میں موجود ایسی جگہیں جدھر یہ چٹانیں نصب .کی گئی ہیں ان چٹانوں کی ترکیب. ایک ہی ہے اور زیادہ حیران کن بات تو. یہ ہے کہ اس وقت لوگوں نے اتنی بھاری چٹانوں. کو کیسے اکٹھا کیا اور اس طرح ٹیمپلز کی شکل دی

برطانوی آثار قدیمہ کا راز اور اس کی معلومات۔

کیونکہ ان میں سے ایک ایک چٹان کا وزن بیس میٹرک ٹن ہے اور یہ سات میٹرز تک اونچی ہیں ۔ ابھی اس پر مزید ریسرچ کی ضرورت ہے. تاکہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ ان وزنی پتھروں کو ایک جگہ .سے دوسری جگہ کیسے پہنچایا جاتا رہا تھا . ریسرچرز ٹیم کا کہنا ہے کہ ان جگہوں سےمتعلق لامتناہی سوالات. ہیں جن کے جوابات کسی کے پاس بھی نہیں ہیں اور تاریخ دانوں. کو انکی تلاش کا ایک لمبا سفر درکار ہے . لیکن زمانہ قدیم کے لوگوں نے انگلینڈ میں یہ بڑے پتھر .اس ترتیب سے لگائے کیوں اس سوال کے جواب میں کئی مختلف تھیوریز ہیں. جن میں سے ایک یہ ہے کہ سٹون ہینج پہ سورج. کی شعائیں براہ راست پڑتی ہیں اور ارد گرد شدید .سرد علاقے کی وجہ سے اس جگہ کو اہمیت حاصل ہوئی ۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ زمانہ قدیم میں قبرستان ہوا کرتے تھے جہاں پر وحشی قبائل اپنی عجیب و غریب رسوم کی ادائیگی کیا کرتے تھے ۔ معروف برٹش ماہر ارضیات مائیک پارکر پیئرسن کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کی دس فیصد آبادی کا اعتقاد ہے کہ یہ کوئی عبادت کی مخصوص جگہیں ہیں۔ اس تھیوری کو درست ماننے والوں کے پاس ان جگہوں پر ملنے والی اسی ہزار جانوروں کی ہڈیاں ہیں جو کہ غالبا قربان کئے جاتے رہے ہیں یا پھر مہمانوں کی تواضع کے لئے استعمال ہوا کرتے تھے  ۔ چونکہ ان پتھروں کی تنصیب اکتیس سو سال قبل مسیح کی ہے اگرچہ یہ وقت کیساتھ تبدیل ہو چکے ہیں مگر ابھی بھی یہ قابل توجہ ہیں ایسے لگتا ہے

برطانوی آثار قدیمہ کا راز اور اس کی معلومات۔

کہ کوئی ایلینز ان پتھروں کو اس طریقے سے لگا گئے ہوں سائنسدانوں اور ارضیات دانوں کا کہنا ہے کہ ان کے ارد گرد ان زمانوں کے رہن سہن کے مطابق سہولیات کی موجودگی بھی واضح ہے ۔ ایک چیز جو کہ اٹل ہے وہ یہی ہے کہ یہ جگہیں اور یہاں نصب یہ دیو ہیکل پتھر خاص اہمیت رکھتے تھے کیونکہ انکو اس شکل میں نصب کرنے میں جس مشقت سے کام لیا گیا ہے جدید زمانے کی انجینئرنگ بھی اس پر حیران ہے ۔ موجودہ ویلز کے علاقے کی قریبی پہاڑیوں ‘ویسٹ ووڈز’ جو کہ سٹون ہینج سے کوئی پچیس کلومیٹر دوری پر ہیں ان سے یہ پتھر لئے گئے ہیں جبکہ ماضی میں یہ سمجھا جاتا کہ موجودہ ویلز سے ایک سو چوبیس میل دور موجود غاروں کے پتھر ہیں ۔

یونیورسٹی آف برائٹن سے پروفیسر ڈیوڈ نیش اور اسکی ٹیم نے حالیہ ریسرچ دی ہے جس میں ثابت کیا ہے کہ یہ پتھر ویسٹ ووڈز کے ہیں اگرچہ ان چٹانوں سے سیمپل لینے کے لئے کسی کو اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ UNESCO world heritage site ہے اور انکی طرف سے یہاں سے پتھر کاٹنے کی ممانعت ہے ۔ 1958ء میں ان چٹانوں کی بحالی کی ایک کوشش کے دوران ان میں دراڑیں پڑ گئی تھیں ان چٹانوں کو دھاتوں کے ساتھ جوڑا گیا اور اس کے لئے ڈرل کی مدد سے سوراخ کرنے پڑے اور اس دوران چٹانوں کے جو ٹکڑے نکلے وہ پرسرار طور پر کئی دہائیوں تک نہ مل سکے ڈرلنگ کمپنی کے ایک ملازم  نے 2018ء میں ان ٹکڑوں کو دوبارہ ڈھونڈ لیا ۔

برطانوی آثار قدیمہ کا راز اور اس کی معلومات۔

پروفیسر نیش بھی دوسرے کئی ماہرین کی طرح صرف اندازہ ہی لگا سکتا ہے کہ یہ چٹانیں ان جگہوں پر پہنچائی کیسے گئی تھیں شاید انکو ہاتھیوں کی مدد سے کسی گاڑی میں کھینچ کے یہاں لایا گیا تھا ۔ اس کے متعلق صرف اندازے ہیں درست جواب کسی کو بھی معلوم نہیں ہے ۔ دور جدید مین بھی سٹون ہینج سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی تاریخی سائٹ ہے پتھر کے دور کی اس یادگار کو دیکھنے تقریبا 1.7 ملین سیاح ہر سال یہاں آتے ہیں۔ 1986ء میں سٹون ہینج کو یونیسکو کی تحویل میں دینے سے پہلے ویزیٹرز ان چٹانوں کے اوپر بھی جا سکتے تھے ۔ کچھ لوگ ان چٹانوں کے ٹکڑوں کو یادگار کے طور پر بھی ساتھ لے جایا کرتے تھے

اب یہ جگہ سیاحوں کے لئے ممنوع ہے وہ صرف ان کو بڑی بڑی سلاخوں اور باونڈری کے پیچھے سے ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ صرف سرما اور گرما میں ان دنوں پر جب سورج خط استوا سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتا ہے سیاحوں کو کچھ نزدیک جانے کی اجازت ہوتی ہے ۔ سیاحوں کے علاوہ بہت سے لوگ جن میں درودز قبیلے کے لوگ بھی شامل ہیں وہ ان مخصوص دنوں میں سورج کا استقبال بانسری اور ڈرم بجا کر کرتے ہیں ۔ سٹون ہینج کی تاریخ پراسرار ہونے کے ساتھ ساتھ بہت دلچسپ بھی ہے ۔ کئی صدیوں تک یہ جگہ کسی ایک شخص کی ملکیت سمجھی جاتی تھی پہلی جنگ عظیم میں جب اس کا مالک بنا کوئی وارث چھوڑے مر گیا تو اس آثار قدیمہ کی نیلامی کر دی گئی

برطانوی آثار قدیمہ کا راز اور اس کی معلومات۔

ساتھ میں یہ دیو ہیکل پتھر بھی بیچنے کے لئے لگا دئے گئے ۔ سیسل چب جو کہ اس نیلامی میں صرف کرسیاں لینا .چاہتا تھا اس وقت اس نے چھیاسٹھ سو پاونڈز. کی خطیر رقم دے کر اپنی بیوی کو. تحفہ دینے کے لئے اس قدیم جگہ کو بھی ساتھ ہی. خرید لیا جس کو یہ قدیم جگہ بالکل بھی پسند نہیں. آئی اور وہ صرف فرنیچر لینے میں ہی انٹر.سٹڈ تھی ۔ 1918ء میں سیسل چب. نے یہ آثار قدیمہ برٹش گورنمنٹ کو عطیہ کر دیا جس. کے بدلے میں حکومت کی جانب سے اسکو سٹون. ہینج کے نواب کا ٹائٹل عطا کیا گیا ۔ چونکہ. ایک امریکی بھی اس کو خرید کر. امریکہ لے جانا چاہتا تھا لیکن اس قدیم جگہ کا .تعلق چونکہ برطانیہ سے ہے تو برطانیہ میں ہی رہنا. پوری دنیا کے لئے زیادہ مناسب ہے

تاکہ تاریخ کو ایسے ہی محفوظ کیا جا سکے جہاں سے اسکا تعلق ہے ۔ یہ قدیم جگہ تاریخ میں ایک پراسرار. اور جادوئی سی حیثیت رکھتی ہے کہ پینتالیس سو. سال قبل ان پتھروں کو اس حالت میں کیوں .اور کیسے لگایا گیا کیا یہ ایک عبادت گاہ تھی یا اس .وقت کے خداوں کو خوش کرنے کے لئے کوئی قربان گاہ . ایک قبرستان یا پھر سورج کی پوجا کرنے والوں کا مقدس مقام یا کہ. واقعی کوئی ایلینز اپنی بے پناہ طاقت کے ذریعے. ان چٹانوں کو یہاں نصب کر گئے تھے ہر سال یہاں سیاحوں. کے علاوہ ریسرچرز کی ایک کثیر تعداد آتی ہے مگر ان سوالوں میں. سے کسی کا بھی جواب کسی کے پاس نہیں ہے. چاہے وہ سائنسدان ہوں یا تاریخ دان۔۔۔

سحر عندلیب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں