میں نے کہا تم ایسا نہ سوچ یہ لو میں نے اس کے ہاتھ میں کتاب پکڑ دی۔ 9

تم ایسا نہ سوچ یہ لو میں نے اس کے ہاتھ میں کتاب پکڑ دی۔

تم ایسا نہ سوچ یہ لو میں نے اس کے ہاتھ میں کتاب پکڑ دی۔

اور اپنے کالج چلا گیا.  کا کے میں بہت خوش تھا کے سحر نے .مجھ سے بات تو کی کالج پہنچا تو ساحل بھی وہی پر. موجود تھا میں اس کے پاس جا کر. ابھی بیگ رکھا ہی تھا کے وہ بولا جی ا گئے ہو سحر. کے ڈرائیور میں نے کہا بکواس ہے کرنی. ہے جتنی مرضی ہے کرو میں بیٹھ گیا وہ بولا .کیا بات ہے آج بڑے خوش نظر ا رہے. ہو میں نے کہا یار آج اس نے مجھ سے پہلی دفعہ بات .کی ہی کیا مطلب تم سے یعنی کے تم سے .اور وہ ہنس پڑا میں نے کہا یار سچی اچھا کیا .بول اہے اس نے میں نے کہا کہ وہ .جب کالج اُتار کر واپس آنے لگا تو اس کو میں نے کتاب .دی تھی کل اس کے خالو کو   ملی ہے نہیں

تم ایسا نہ سوچ یہ لو میں نے اس کے ہاتھ میں کتاب پکڑ دی۔

اور ویسے بھی ہم نے کر لی ہے پڑھائی جو کرنی تھی ساحل بولا اچھا یار میں تو تم کو بتانا ہو بھول گیا میں نے کہا کیا بتانا بھول گئے ہو وہ بولا کے میرے بھائی اکمل جو دبئی سے آئے ہوئے ہیں ان کہ اگلے ہفتے میرے چاچو کے گھر راستہ پکا ہو گیا ہے تو میں نے کہا میں کیا کروں تو وہ بولا تم کو تو پتہ ہے وہ تھوڑا بیمار ہی رہتے  ہیں اس وجہ سے ان کی شادی بھی 10 دن بعد ہے میں نے کہا اچھا  یار ویسے مجھے لگ رہا ہے آج مجھے اس سے پوچھ لینا چاہیے کے یہ نہ ہو وہ صبح پھر چپی  نہ چھاہ جائے اس نے کہا ہاں دیکھ لو میں نے کہا ہاں آج ضرور پوچھوں گا  اسی طرح بس سارا دن ہی گزر گیا جب چھٹی ہوئی تو میں سحر کو لینے کے لیے گیا

تم ایسا نہ سوچ یہ لو میں نے اس کے ہاتھ میں کتاب پکڑ دی۔

تو  وہ سامنے ہی کھڑی تھی میں بھی اس کے پاس روک گیا میں نے کہا کہ بیٹھ جاؤ وہ میرے پیچھے بیٹھ گئی تھوڑی آگے گئے تو میں نے کہا اگر کوئی اور بھی کتاب چاہیے  تو تم لے لینا مجھے اتنی ضرورت نہیں پڑتی ویسے بھی تم نے صبح دیکھ تو لیا ہو گا کے میرے گھر والوں  سے تم نے ہود بھی سب لیا ہی ان کو مجھ سے کتنی سے امیدیں ہیں وہ بولی نہیں مجھے وہ چپ کر کے بیٹھی رہی مجھے غصہ ا رہا تھا کے پھر وہی بات چُپی چهاہ گئی ہے میں نے اس کو بولا کیا بات ہے تم مجھ سے بات کیوں نہیں کرتی در لگتا ہے یا میں ہی اچھا نہیں لگتا اگر ایسی کوئی  بات ہے تو تم مجھے بتا دو  میں تم کو آئندہ اپنے ساتھ نہیں لاؤں گا

وہ بولی میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا اور نہ ہی ایسی کوئی بات ہے میں نے کہا تو پھر کس طرح کی بات ہے تم تو مجھے جو سوال پوچھتا ہوں اس کا جواب بھی نہیں دیتی میں اتنا برا لگتا ہوں وہ بولی نہیں  میں نے کبھی بھی ایسا نہیں سوچا میں نے کہا اچھا اس کے بعد میں نے اس کے ساتھ پورے راستے کوئی بات نہیں کی میں نے سحر کے گھر کے پاس پہنچے تو میں نے موٹر سائیکل روکا تو وہ اُتر گئی میں نے اس کی طرف نہ دیکھا اور  چلا گیا شاید وہ کتاب دینا چاہتی تھی لیکن میں نے اس کی طرف نہ دیکھا اور اپنے گھر کی طرف چلا گیا میں نے  گھر جا کر کھانا کھایا اور اپنے کمرے میں چلا گیا وہاں پر موبائل استعمال کر رہا تھا

تم ایسا نہ سوچ یہ لو میں نے اس کے ہاتھ میں کتاب پکڑ دی۔

تھوڑی دیر بعد مجھے پیچھے سے  سحر کی آواز آئی میں نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو پیچھے سحر کھڑی تھی اور اس کے ہاتھ میں کل والی کتاب تھی وہ بولی یہ لیں آپ کی کتاب میں نے کہا میں نے وہاں سے ہی لیٹے ہووے اس کو میز کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہاں رکھ دو اس نے رکھ دی اور بولی شکریہ میں نے کہا کوئی بات نہیں اور موبائل دوبارہ استمال کرنے لگ گیا وہ چلو گئی مجھے سمجھ نہیں ا رہی تھی کے اچانک اتنی زیادہ تبدیلی کی وجہ کیا ہے اچانک وہ اتنے اچھے سے بات کرنے لگ گئی ہے میں حیران تھا اگلے دن جب کالج جانے لگے تو راستے میں اس۔ نے ایک دو دفعہ   لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا

ایسے ہی واپسی پر. بھی اس نے مجھ سے پوچھا کے. میں نے ٹیوشن کا بولا تھا خالہ کو  لیکن .کوئی ٹیوشن والی مڈم مل ہی نہیں رہیں. میں نے کوئی جواب نہ دیا ایسے ہی کچھ دن گزر گئے  ایسے ہی. کُچھ دن گزر گئے اب وہ بھی مجھ .سے بات کرنے کی کوئی کوشش نہیں. کرتی تھی میں گھر پر ہی تھا کے تو ساحل. کی مجھے کال آئی میں نے بولا ہاں بول کیا بات ہے وہ بولا یار. صبح تم نے کالج جانا ہے میں نے کہا. ہاں جانا ہے کیوں تم کیوں پوچھ رہے .ہو تو وہ بولا یار تم کو پتہ ہے میں نے .جانا ہو یا نہ جانا ہو سحر کو تو چھوڑ کے انا ہوتا ہے چلو کوئی. بات نہیں میں اس کو چھوڑ کر آ جاؤں. گا پھر جو كام ہوں گے وہ  کر لیں گے. وہ بولا ٹھیک ہے

تم ایسا نہ سوچ یہ لو میں نے اس کے ہاتھ میں کتاب پکڑ دی۔

صبح میں نے امی بتا دیا کے میں آج کالج نہیں جاؤں گا تو وہ بولی تو سحر کس کے ساتھ جائے گی میں نے کہا اتنے۔ میں سحر اور چچی نازیہ بھی آ گئیں تو جب اُن کو بتایا کہ میں نے آج نہیں جانا کالج تو چچی نازیہ بولیں کے چلو کوئی بات نہیں سحر بھی آج چھٹی کر لے گی میں نے کہا نہیں کوئی بات نہیں میں اس کو چھوڑ اؤں گا اور واپس بھی لے اؤں گ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں