جب میں کچن میں داخل ہوا تو وہ میری طرف دیکھنے لگی۔ 9

جب میں کچن میں داخل ہوا تو وہ میری طرف دیکھنے لگی۔

جب میں کچن میں داخل ہوا تو وہ میری طرف دیکھنے لگی۔

میں اس کے کہنے کے بغیر. ہے اس کو چاۓ کا سامان نکل دیا اور پوچھا اس .کے علاوہ کوئی چیز چاہیے تو بتاؤ وہ بولی. نہیں بس ٹھیک ہے میں کچن سے .بھر نکل آیا اور چچا کے پاس ا کر بیٹھ گیا تھوڑی دیر. بعد ہے کرن چاۓ بنا کر لے آیی وہ ہمیں چاہے. دینے کے بعد میرے ساتھ والی کرسی پر. بیٹھ گئی اور بولی تو حیدر تم صبح .کام پر اؤ گے نہ میں ایک دفع اس کی طرف دیکھا لیکن. میرے کچھ کہنے سے پہلے ہے چچا بولے کرن. سے بولے کیوں بیٹا کیا بات ہوئی ہے. آج تو یہ بول رہا تھا کے دل نہیں کر رہا تھا. اس لئے نہیں گیا میں خاموش ہے رہا کرن اٹھا کر. جانے لگی تو میں بھی اس کے ساتھ ہے دروازہ. تک اس کو چھوڑنے چلا گیا

میں نے آہستہ سے اس کو بولا کے آج کے بعد میرے گھر نہ آنا میں تم کو جتنا هود سے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تم اتنا ہی میرے پیچھے پڑ گئی ہو وہ بولی کے میں نہیں آوں گی اور نہ ہی تم کو تانگ کروں گی میں صرف یہ نہیں چاہتی کے تم میری وجہ سے کام چھوڑو میں خاموش رہا اور دروازہ بند کر دیا اگلے  دن میں ہسپتال گیا تو سلیم صاحب نے مجھ سے چھٹی کے بارے کچھ بھی نہ پوچھا میں سلمہ کے پاس گیا تو وہ تھوڑی ک حفا نظر ا رہی تھی میں نے پوچھا کیا ہوا میڈم کا موڈ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تو وہ بولی میرے کہنے پر تو تم انے کے لئے تیار نہیں تھے اور مڈم کرن کے ایک دفع کہنے پر بھاگتے ہووے آے

جب میں کچن میں داخل ہوا تو وہ میری طرف دیکھنے لگی۔

ہو میرے کچھ کہنے سے پہلے ہے کرن بھی پیچھے سے ا گئی تھی وہ سلمہ کو میرے ساتھ دیکھ کر تھوڑا سا حفا لگ رہی تھی پھر وہ سلمہ سے بولی کے تم میرے کمرے میں اؤ وہ گ مڈم کہ کر اس کے پیچھے چل پڑی واپس آیی تو وہ بہت غصہ میں لگ رآہی تھی میں نے پوچھا کیا ہوا ہے وہ بولی یہ پتا نہیں سمجتی کیا ہے مجھے بول رہی تھی کے تم یہں پر کم کرنے آتی ہو یا باتیں کرنے ور ہنسنے کے لئے میں سمجھ گیا کے سلمہ کا مجھ سے بات کرنا کرن کو اچھا نہیں لگا دن دوپہر کو کرن میرے پاس آیی ور پوچھا کے میں لنچ کرنے جا رہی ہوں مجھے یہاں پر کسی جگہ کا نہی پتا تو کیس تم نرے ساتھ چلو گے میں نے بولا ہاں کیوں نہیں

مجھے تو خوشی ہو گی کرن بے احتیار بولی تم سچ بول رہا ہو میں نے کہا ہاں بلکل میں نے سلمہ سے کہا چلو تم بھی ہمارے ساتھ سلمہ بولی نہیں تم لوگ جاؤ میں نے کہا نہیں تم کو بھی ہمارے ساتھ جانا پڑے گا میں نے سلمہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے بولے کے چلو بھی وہ میرے ساتھ چل پڑی  کرن کو اچھا تو نہیں لگ رہا تھا لیکن وہ پھر بھی کچھ نہ بولی پارکنگ میں کرن کی گاڑی  کھڑی تھی ہم اس پر بیٹھ کر ہوٹل پوھنچے کھانا کھا کر ہم واپس آے میں نے بھی اس کی طرف کوئی توجو نہ دی میں اچھے سے جانتا تھا کے وہ میرا سلمہ کے ساتھ باتیں کرنا پسند نہی کر رہی یہی وجہ تھی کے میں آج سلمہ سے کچھ زیادہ ہے بے تکلف جو کے باتیں کر رہا تھا

جب میں کچن میں داخل ہوا تو وہ میری طرف دیکھنے لگی۔

اور اس کے ساتھ مسکرا. رہا تھا پتا نہی کیا بات کرن کو تکیلف دینے .میں مجھے جتنا مزہ آ رہا تھا اتنا ہے. برا لگ رہا تھا مجھے لگتا ہے یہ. وہی پیار ہے جو کبھی میں نے اس کے ساتھ بچپن میں کیا تھا لیکن. حالات  اور اس کی ماں کی وجہ سے مجھے. ملی تکلیف اور میری بہن پر کے .گئے ظلم مجھے اس پیار سے دوو. رہنے پر مجبور کر رہے ہم واپس ہسپتال آے تو میں نے کرن سے .کوئی بات نہ کی اور ہسپتال میں چلا گیا .کرن ہسپتال میں آیی تو میری طرف. ایک نذر دیکھ لیکن کچھ بولے بغیر. اپنے کمرے میں چلی گئی سلمہ بولی تم اچھا نہی کر رہے وہ تم کو. منانے کے لئے کیا کچھ کر رہی ہیں .لیکن تم اس کے ساتھ غلط کر رہے ہو

میں نے سلمہ سے بولا تم غلط نہ سمجنا لیکن تم اس بات سے دور رہو میں نہیں چاہتا کے اس کی کوئی میرے سامنے سفارش کرے وہ چپ کر گئی شام کو چھٹی کے بعد گھر جانے کے لئے پارکنگ سے بائیک لینے گیا تو پٹس چلا کے بائیک تو پنکچر ہے میں وہاں سے سڑک پر آیا لیکن کوئی بھی چیز نہیں تھی کافی دیر کھڑا رہا لیکن کوئی رکشہ ٹیکسی نہ ملی اتنی دیر میں چچا کی کال آ گئی وہ بولے بیٹا کیا بات ہے آج ابھی تک تم گھر نہیں ہے میں نے بتایا کے بائیک بائیک حراب ہو گئی ہے اتنی دیر میں پیچھے سے اسما بولی بھائی کہاں ہیں اپ مجھے بہت زور سے بھوک لگی ہوئی ہے میں نے کہا میری پیاری بہن تم آج کھانا کھا لو میں تھوڑا لاتے ہو جاؤں گا

جب میں کچن میں داخل ہوا تو وہ میری طرف دیکھنے لگی۔

وہ بولی نہیں بھائی اپ کے آئیں گے تو میں اپ کے ساتھ ہے کھانا کھاؤں گی اور اس نے کال بند کر دی میں وہاں پر ہے کھڑا تھا کے پیچھے سے کرن آ گئی وہ بولی تن یہاں کیا کر رہے ہو اور تمہاری بائیک کہاں ہے میں نے کہا کچھ نہیں جاؤ یہاں سے لیکن وہ بولی بتاؤ تو ہوا کیا ہے میں نے کہا کے میری بائیک حراب ہو گئی ہے اس نے دروازہ کھولا اور بولی کے بیٹھ جاؤ میں نے کہا تم کو بولا ہے نہ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں وہ بولی اس وقت تم کو رکشا نہیں میلے گا تم بیٹھ جاؤ میرے ذہن میں یہ بھی تھا کے میری بہن گھر بھوکی ہے مجھے نہ چاہتے ہووے بھی گاڑی میں بیٹھنا پڑا کچھ دیر تو وہ خاموش رہی لیکن پھر اس خاموشی کو توڑتے ہووے

بولی کے تم مجھے معاف کر دو میں جانتی ہوں کے میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا ہے ہے لیکن میں اس غلطی کو کیسے ٹھیک کرو تم مجھے جو بھی سزا دینا چاہو دے سکتے تمہاری دی گئی ہر سزا میں ہنستے ہووے برداشت کر لوں گی تم مجھے صرف ایک دفع معاف کر دو میں نے کہا میں ہوتا کون ہوں تم کو معاف کرنے والا تم میری کچھ نہیں لگتی اور نہ ہی میں تم کو کوئی سزا دینا چاہتا ہوں میں نے کہا اگر یہی باتیں کرنا چاہتی ہو تو مجھے اتار دو وہ بولی ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں اب کوئی بات نہیں کروں گی اس کے بعد اس نے کوئی بات نہ کی میرے گھر کے باہر جب گاڑی روکی تو چچا باہر آ گئے اس کے ساتھ اسما بھی تھی

جب میں کچن میں داخل ہوا تو وہ میری طرف دیکھنے لگی۔

وہ مجھے دیکھتے ہی میرے گلے سے لگ گئی اتنی دیر میں کرن بھی گاڑی سے اتر آیی اور بولی یہ تمہاری بہن اسما ہے میرے کہنے سے پہلے ہے چچا بولے ہاں یہ اس کی بہن اسما ہے وہ اسما کے نزدیک ہوئی اور بھوجل لہجے میں بولی کے اسما میں کرن ہوں لیکن اسما کو کچھ بھی یاد نہیں تھا وہ بولی اپ بھائی کے ساتھ کام کرتی ہیں کرن نے کہا ہاں میری بیٹی میں ان کے ساتھ ہے کام کرتی ہو چچا نے کرن کو بولا اؤ بیٹا اندر اؤ کھانا تیار ہے کھانا کھا لو میں نے جلدی سے کہا نہیں چچا کرن مڈم لاتے ہو جائیں گی وہ بولے کوئی بات نہیں ویسے بھی اس نے اپنی گاڑی پر جانا ہے کوئی نہیں دیر ہوتی ہوتی کرن نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا اور اندر داحل ہو گئی

کھانا پہلے سے ہے لگا ہوا تھا کرن کو اسما بولی آپی آیئں  میں اپ کو واش روم میں چلتی ہوں اپ ہاتھ دھو لیں  وہ اس کے ساتھ اٹھ کر چل پڑی چچا نے میری طرف دیکھا اور بولے  کیا بات ہے بیٹا میں نے کہا کوئی نہیں چچا جی ایسی کوئی بات نہیں اتنے میں کرن اور اسما بھی آ  گئے چچا نے آلو اور گھوبی کی سبزی بنائی ہوئی تھی ساتھ میں بریانی تھی کھانا پکانے کا کام میں یا چچا کرتے تھے میں نے یا چچا نے کبھی  بھی اسما کو کوئی کام  نہیں  بولا تھا اسما میرے پاس بیٹھنے لگی تو کرن بولی کے اسما آج تم میرے ساتھ بیٹھ جاؤ بھائی کے ساتھ تو روز بیٹھ کر کھانا کھاتی ہو اسما کرن کے پاس بیٹھ گئی کھانا کھانے کے بعد کرن گئی

جب میں کچن میں داخل ہوا تو وہ میری طرف دیکھنے لگی۔

تو چچا نے مجھے اپنے کمرے میں بولیا اور پوچھا بیٹا تم مجھ سے کیا چھپا رہے  ہو میں نے پہلے تو بہت بولا نہیں ایسی کوئی بات نہیں لیکن پھر ان کو بتانا ہے پڑا یہ بتانے کے بعد کے وہ کرن ہے اس کے بعد یہ بھی بتایا کے میں نے اس کے ساتھ برا برتاؤ کر کے بھی دیکھ لیا ہے لیکن وہ مجھ دور نہیں رہتی اور بول رہی ہے مجھے معاف کر دو چچا بولے بیٹا میری بات سونو وہ مجھے تو ایسی نہیں لگتی کے وہ ابھی بھی ویسی ہے ہے اور بچپن میں اس کو کیا خبر تھی کے اس کی وجہ سے تمہارے ساتھ یہ سب کچھ ہو جایئگا اگر اس کے دل میں پچھتاوا نہ ہوتا

تو وہ تم سے معافی کیوں مانگتی تمہارے بار بار ذلیل کرنے سے بھی اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا تو اس کا تو مطلب یہی ہے کے وہ سچے دل سے تم سے معافی مانگنا چاہتی ہے میں نے کہا چچا میں وہ سارے ظلم کیسے بھول جاؤں جو اس کی اور اس کی ماں کی وجہ سے چودھری نے مجھ پر اور میرے خاندان پر کیے ہیں میں چاہ کر بھی ان کو بھولا نہی سکتا”””

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں