جناب آپ نے کہا تھا کہ آج ہماری نئی ڈیزائنر آرہی ہیں 9

جناب آپ نے کہا تھا کہ آج ہماری نئی ڈیزائنر آرہی ہیں

جناب آپ نے کہا تھا کہ آج ہماری نئی ڈیزائنر آرہی ہیں

منعم نے فائل تھام کر ہیل. کی ٹک ٹک آواز کے ساتھ اندر آتے. ہوئے پوچھا “ہاں ” سیف کی لیپ ٹاپ میں. مصروف سی آواز آئی “اسپر سیگنیچر. کرو، عدی اور میں نے کردیا تھا بس تم ہی رہ گئے تھے”. سیف کے قریب چیئر کے پاس جاتے ہوئے. فائل کو اس کے سامنے ڈیکس پر. رکھتے ہوئے کہا “ویسے میں نے سنا ہے. کہ اس ڈیزائنر کو کسی نے رکمنٹ کیا ہے” “ہاں مام نے. رکمنٹ کیا” سیف بدستور لیپ ٹاپ پہ مصروف. سا بولا “تو پھر یہ کوئی میڈل کلاس. ہی ہوگی” منعم نے اس طرح. کہا گویا میڈل کلاس نا ہو کوئی بیماری ہو “منعم!” “سوری” سیف کی .سخت ناگوار لہجے پہ وہ فورا معافی. مانگ گئی تھی، “سر آپ کی مدر ڈیزائنر. کے ساتھ آئیں ہیں

” “آئی سی” سیف کے .سیکرٹری کے اندر آکر کہنے پر منعم .کے منہ سے نکلا تھا “ٹھیک ہے جاو” سیف. نے منعم پر دھیان دیے بغیر سیکرٹری. سے کہا تھا “دیکھ لینا تائی. امی کی کوئی میڈل کلاس .رشتہ دار ہی ہوگی، سوچ سمجھ کر اپائنٹ. کرنا ، نئے نئے شیئرز خریدے ہیں تم نے. اس کمپنی کے اس لئے جنید نے. تمہیں موقع دیا اپنے ڈیزائنر کو. سجیسٹ کرنے کا” منعم جیسے. سیف کو سمجھاتے ہوئے کہہ رہی تھی. کیونکہ بے حد مغرور کسی کو خاطر میں. نا لانے والے سیف الرجمن کی صرف. ایک ہی کمزوری تھی، اس .کی ماں مدحت، “میں بے وقوف نہیں ہوں. سیف ناگواری سے منعم کو. گھور کر کہتا لیپ ٹاپ بند کرتا چیئر پہ سے. اٹھا تھا۔ “

جناب آپ نے کہا تھا کہ آج ہماری نئی ڈیزائنر آرہی ہیں

میں جانتی ہوں، پیپرز پہ سیگنیچر کردو” منعم برا سا منہ بنائے کہتی بولی جس پر سیف پین اٹھاتا دستخط کرنے کے لئے جھکا تھا “سیف۔۔” “ویلکم مام” سیف خوشگوار لہجے میں یوں ہی جھکے جھکے بولا “” یہ رہی آپ کی نئی انٹیرئر ڈیزائنر پلس آپ کی نئی ٹیکسٹائل کمپنی کی فیشن ڈئزائنر!” مدحت کے نہایت پرجوش انداز میں کہنے پر سیف نے دستخط کرنے کے بعد مصروف سے انداز میں اپنی نگاہوں کو اٹھا کر دیکھا جہاں اس کی نگاہ سیاہ پینسل ہیل سے ہوتی ہوئی اٹھ رہی تھی ، ٹی پنک کلر کے خوبصورت اور اسٹائلش سے قدموں تک چھوتے فراک سے صرف سیاہ نوکیلی ہیلز نظر آرہی تھی،

سرد ماحول کی مناسبت سے فراک کے اوپر خوبصورت اسٹائلش سا گھٹنوں سے نیچے تک آتا ڈارک جامنی کلر کا سوئٹر تھا فل سلیوز سے ڈھکی سنہرے ہاتھ انگوٹھیوں اور بریسلیٹ سے سجے دلکش لگ رہے تھے، ٹی پنک کلر کے ڈوپٹے اس کے وجود سے لپٹا تھا اور ساتھ ہی ڈارک جامنی کلر کی چادر بھی وجود سے لپٹا تھا اور ہمیشہ کی طرح سر ڈوپٹہ سے ڈھکا تھا ، وہ کافی دلکش اور امپریسو لگ رہی تھی “امپوسبل” سیف اور منعم کے منہ سے ساتھ نکلا تھا، حیرت سے آنکھیں پھاڑے انہوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے اسے دیکھا جو ان سے بے نیاز آفس کا جائزہ لے رہی تھی، اور مدحت نہایت پرجوش سی سیف کو حیران سا ہوتے دیکھتی رہی تھی،

جناب آپ نے کہا تھا کہ آج ہماری نئی ڈیزائنر آرہی ہیں

ایک لمحے کے لئے سیف کے چہرے پہ پسندیدگی کے رنگ ابھرے تھے جو اگلے ہی پل فورا گم بھی ہوئے تھے جسے البتہ مدحت پہچان گئی تھی “آپ کو کیا لگتا ہے تائی امی آپ ہالہ کو اس طرح ڈریس اپ کروا کر لائے گیں اور کہیں گیں کہ یہ ڈیزائنر ہے تو کیا ہم مان لے گے؟” منعم نے سخت تلخی اور ناپسندیدگی سے کہا تھا “کیا آپ کو بھی لگتا ہے میں جھوٹ کہہ رہی ہوں؟” مدحت کے لبوں کی مسکراہٹ فورا سمٹی تھی “نہیں مام میں جانتا ہوں کہ آپ کبھی جھوٹ نہیں کہتیں” سیف ایک سخت نگاہ منعم پر ڈال کر مدحت کے قریب جاتا بولا “مگر ہو سکتا ہے اس نے جھوٹ کہا ہو آپ سے “

ایک سخت نگاہ ہالہ پہ ڈالتے ہوئے سیف نے کہا تھا جسے سن کر ہالہ نے غصے سے اسے گھورا تھا پہلے ہی وہ منعم کے ساتھ آفس میں تنہاء نظر آیا تھا اور اب اسے جھوٹا بھی کہہ رہا تھا، کاجل اور لائنر سے سجی سیاہ کٹیلی آنکھیں جو غصے سے مزید خوبصورت نظر رہی تھی ، سیف کے دل میں پھر سے بری طرح جا کھپی تھی (اف کیا اس نے پھر سے کاجل لگایا تھا؟) سیف نے نظریں فورا سے پیشتر پھیری تھی، ناگوار اور ہالہ کو اچانک اپنے سامنے دیکھ غصہ سے بھرتا طبیعت جیسے خوشگوار ہوا تھا ” اس سے پہلے بھی میں نے آپ سے کہا تھا کہ بنا چانچے کسی کو جج مت کیا کریں” “اوکے ، آپ کے رکمنٹ کئے ڈیزائنر کو ابھی صرف بطور امتحان کے رکھتا ہوں

جناب آپ نے کہا تھا کہ آج ہماری نئی ڈیزائنر آرہی ہیں

اگر یہ اپنے کام میں ماہر نکلی تو پرمننٹ ہماری کمپنی میں جوئن ہو جائے گی” سیف مدحت کے غصے سے ڈاٹنے پر فورا بولا تھا “ٹھیک ہے مجھے منظور ہے” سیف کی بات سن کر مدحت نے ہالہ کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا جس پر اس نے نرم دھیمی جل ترنگ بجاتی آواز کے ساتھ فورا ہامی بھری، سیف نے اس آواز پر اپنی دل کی دھڑکن کو بڑھتا محسوس کیا تھا جسے وہ قطعی نظر انداز کرگیا تھا ” مس شہروز ” “یس سر” اپنی سکریٹری کو پکارنے پر وہ فورا حاضر ہوتی بولی “ہماری نئی ڈیزائنر کو اپنا آفس دیکھائیں” “اوکے سر، چلیں میم” مس شہروز پہلا جملہ سیف سے کہتی دوسرا جملہ ہالہ سے کہا تھا جو سر ہلاتی مس شہروز کے ساتھ چل دی

“چلو ہالہ میں بھی دیکھ لوں آپ کا آفس” مدحت بھی اشتیاق سے کہتی ہالہ کے سنگ ہوگئں تھیں “مس شہروز ” “جی سر” سیف کے پکارنے پر سیکریٹری رکتی فورا مڑی “معاذ کو کال کر کے کہہ دینا کے ہمیں نئی ڈیزائنر مل چکی ہیں سو وہ آفس آئے تاکہ ہم ایک میٹنگ کرلیں اپنی نئی ڈیزائنر کے ساتھ” سیف ایک اچٹتی نگاہ ہالہ کے پشت پہ ڈال کر کہہ رہا تھا “اوکے سر” “اور مام مجھ سے ملے بغیر گھر مت جائے گا” “میری جان ! کیا ایسا ممکن ہے آپ سے ملے بنا چلی جاوں” مدحت سیف کے ناراض آواز پہ فورا بے قرار ہوکر تسلی دیتی بولیں، ہالہ مس شہروز کے ساتھ آفس سے باہر نکل گئی “آپ کی چہتی کی موجودگی میں سب کچھ ممکن ہے،

جناب آپ نے کہا تھا کہ آج ہماری نئی ڈیزائنر آرہی ہیں

ڈاکو نہیں تو میری ساری فیملی پر ڈاکا ڈال دیا” سیف دھیمے لہجے میں ناراضگی سے بڑبڑاتا منعم کی جانب متوجہ ہوا جو سارا سین نہایت ہی ناگواریت سے دیکھتی رہی تھی “سیف تم نے بہت بڑی غلطی کی” “اتنی بڑی غلطی بھی نہیں کی کہ اسے سدھار نا سکوں” سیف لاپرواہی سے کہتا دوبارہ چیئر کی جانب بڑھا تھا “وہ تو ہے کیونکہ ایسی بڑی غلطی جو سدھر نا سکے تم نے اپنی زندگی میں ایک مرتبہ ہی کی ہیں، اور وہ بھی اس لڑکی سے شادی کرکے” منعم کے ترس کھائے ہوئے لہجہ میں کہنے پر سیف نے لب بھینجا تھا ” ایسا کس نے کہا کہ میں اس غلطی کو سدھار نہیں سکتا ؟” سیف سر جھٹکتے ہوئے بڑبڑایا تھا

جسے سن کر منعم کی آنکھیں چمکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “یہاں تم کسی سے نہیں کہوں گی تم میری بیوی ہو، کیونکہ میں اپنے ورک پلیس پر بھی ذلیل ہونا نہیں چاہتا” ہالہ کے میٹنگ روم میں داخل ہونے پر کمرے میں پہلے سے موجود سیف نے اس کے قریب آتے ہوئے خشک لہجے میں کہا تھا (تو میں تمہارے لئے صرف ایک ذلت ہوں مسٹر سیف الرحمن) ہالہ کے اندر دھواں سا بھرنے لگا تھا “جنید میں تو کہتی ہوں ایک اور ڈیزائنر کو ہائر کرلیتے ہیں کیونکہ نئی ڈیزائنر مجھے بلکل بھی قابل نہیں لگتی” منعم جنید لغاری کے ساتھ روم میں داخل ہوتی کہہ رہی تھی جسے سیف اور ہالہ نے صاف سنا تھا ، جس پر سیف نے بے ساختہ ہالہ کا چہرہ دیکھا جو منعم کی بات سن کر زرد ہوا تھا

جناب آپ نے کہا تھا کہ آج ہماری نئی ڈیزائنر آرہی ہیں

“اس کی کوئی ضرورت نہیں ہیں ، مجھے مام پر پورا بھروسہ ہے ” سیف آگے بڑھ کر کہتا جنید سے ہاتھ ملاتا بولا تھا جس پر منعم کا چہرہ بگڑا تھا “اوہ ریئلی اگر ڈیزائنر کو مدحت آنٹ نے سجیسٹ کیا ہے تو مجھے بھی بھروسہ ہے ان پر” جنید پورے یقین سے بولا تھا “ویسے ڈیزائنر کہاں ہے؟” ” مم۔۔میں۔۔ہوں ہالہ۔۔ ہالہ مصطفی” ہالہ نے اپنے وجود کی لرزش اور اپنے اندر کے خوف پہ بمشکل قابو پاتے ہوئے آگے بڑھ کر کہا تھا، اس عرصے میں اس نے نظریں اٹھا کہ بھی جنید کو نہیں دیکھا “اوہ واو مس مصطفی آپ کی ڈریسنگ تو کمال کی ہے آئی لائیک اٹ۔۔” مصطفی کی نگاہیں جیسی ہی ڈری سہمی سی ہالہ پر پڑی وہ جیسے ہالہ کا خوفزدہ ہونا سمجھ گیا تھا

جبھی اسے ریلکیس کرنے اس نے کے لئے ہلکا پھلکا دوستانہ انداز اپنایا تھا، مصفطی کا ایسا دوستانہ انداز سیف اور منعم نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا ، ثقفی خاندان سے دور پرے کا رشتہ رکھنے والا جنید لغاری کافی لیا دیا سا دو ٹوک بندہ تھا، وہ بزنس اور دوستی کو کبھی ساتھ نہیں رکھتا ، “بائے دا وے آئی ایم جنید لغاری ، سیف کا پاٹنر، مجھے یقین ہے ، آپ بہت قابل ڈیزائنر ہوگیں، آپ کے ساتھ کام کرکے مزہ آئے گا” جنید نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا اور سیف کے اندر نجانے کیوں ناگواری کی ایک لہر دوڑی تھی “آپ کا بہت بہت شکریہ سر، مگر میں اس کے لئے معافی چاہتی ہوں”

جناب آپ نے کہا تھا کہ آج ہماری نئی ڈیزائنر آرہی ہیں

ایک نظر اپنی. گھنی پلکیں اٹھا کر تناو کی سی کیفیت میں کھڑے سیف پر نظر ڈال کر ، زبرستی کی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے بولی تھی “کوئی بات نہیں مس مصطفی ، آپ کی اس بات نے تو مجھے. مزید آپ کاگرویدا بنادیا ہے، لگتا ہے واقعی آپ کے ساتھ کام کرنے میں مزہ آئے گا” جنید دلچسپ نظروں سے ہالہ کی جھکی پلکوں کو دیکھتا کہہ رہا تھا جس نے اس سارے. عرصے میں نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تک نہیں تھا، بھلا ایسی لڑکیاں بھی دنیا میں۔موجود ہوتی تھی؟ (سچ کہا تم نے جنید لگتا ہے جیسے اب واقعی مزہ آنے والا ہے ) سیف کا سرخ .پڑتا چہرہ دیکھ منعم نے نہایت ہی کمینے پن سے اپنے دل میں سوچا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں