.سحر بانو ‌مجھے دل ہی دل میں بہت شرمندگی ہو رہی ہے۔ 13

سحر بانو ‌مجھے دل ہی دل میں بہت شرمندگی ہو رہی ہے۔

.سحر بانو ‌مجھے دل ہی دل میں بہت شرمندگی ہو رہی ہے۔

تھی کے وہ پتا نہیں میرے بارے میں کیا سوچے گی پورے راستے میں۔  میں نے کوئی بات نہیں کی وہ بھی چپ کر کے پیچھے بیٹھی رہی جب ہم لوگ اس کے کالج  کے دروازے کے پاس۔ پوھنچے تو وہ نیچے۔ اتر کر کالج کی۔ طرف چل۔ پڑی میں۔ نے سوچا کے اس سے پوچ لوں کے کب اؤ لینے. تم کو لیکن ہمت ہے نہ ہوئی کے اگر اس. دفع بھی وہ بولنے پر نہ۔ بولی تو میں وہاں سے اپنے کالج چلا گیا وہاں پر جب پوھنچا تو ساحل نے پوچھا آج میں تمہارے گھر  گے تو تمہاری امی نے بولا کے وہ تو چلا گیا ہے میں نے کہا یار نہ پوچھو بس اب ایسا روز ہے ہو۔گا وہ حیران ہو کر میری طرف دیکھ کر بولا کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں

میں نے کہا کے چچی نازیہ نے میری۔ امی۔ کو بولا کے افان اکیلا جاتا ہے تو وہ اپنے ساتھ سحر کو بھی لے جایا کرے اور میری امی نے بھی ان کو بولی دیا کے ٹھیک ہے وہ لے جایا کرے گا ساتھ لیکن امی کو کیا پتہ کے سحر کے تو نخرے ہی نہیں  ہوتے تو۔ ساحل بولا کے کیوں وہ تو بڑی اچھی ہے ہاں کچھ زیادہ ہے اچھی ہے کیوں تم کو اس نے کون سا نکھرا دکھایا ہے تو میں نے کہا کہ آج راستے میں جب ہم لوگ کالج ا رہے تھے تو راستے میں ایک گڑھے میں سے گزرے تو وہ گرنے لگی تھی تو میں نے اس کو بولا کے تم  مجھے کندھے سے پکڑ  لو تو اس نے کوئی جواب نہ دیا اور نہ کچھ بولی ساحل تم ہود ہے بتاو میں نے اس کو کُچھ غلط تو نہیں

سحر بانو ‌مجھے دل ہی دل میں بہت شرمندگی ہو رہی ہے۔

  نہ بولا تو وہ بولا کے تم کو پتہ تو ہے کے وہ تھوڑی سی شرمیلی ہے اور ویسے بھی وہ شرما گئی ہو گی اس میں برا ماننے والی کیا بات ہے میں نے کہا پھر بھی اتنی دیر میں  پروفیسر دانیال کمرے میں آ گئے وہ آ کر لیکچر دینے لگ گئے لیکن میرا ذہن ابھی بھی سحر کے اس رویے پر حیران تھا لیکن کہیں نہ کہیں مجھے ساحل کی باتیں سمجھ ا رہی تھیں وہ بالکل صحیح کہ رہا تھا ایسے ہے سارا دن گزر گیا میں جب چھٹی ہوئی تو ساتھ ہی سحر کا کالج تھا میں جب اس کے کالج کے پاس پہنچا تو وہ پر بہت زیادہ لوگ تھے اور ہجوم تھا میں ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا میں کھڑا تھا کے اچانک آواز ائی چلیں میں نے پیچھے دیکھا تو سحر بانو کھڑی تھی

میں نے کہا بیٹھ جاؤ. وہ موٹرسائیکل پر بیٹھ گئی مجھے لگ. رہا تھا میرے ذہن میں ساحل کی باتیں چل رہی تھیں. میں نے س سوچ لیا کے میں اب اس سے .کچھ۔ بات نہیں کروں گا سارے راستے میں اس نے بھی مجھ سے کوئی بات نہ کی  ہمارا کالج اتنی دور نہیں تھا میں نے جب اس کو اس کے گھر کے پاس اتارا تو وہ چپ کر کے  اندر چلی گئی میں بھی گھر چلا گیا مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کے وہ میری کسی بھی بات کا جواب کیوں نہیں دے رہی مجھے اندر ہی اندر الجھن سی ہو رہی تھی میں نے سوچ لیا تھا کے صبح اس کو پوچھ لوں گا اگر وہ میرے ساتھ جانا نہیں پسند کرتی تو میں اس کو آج کے بعد اپنے ساتھ نہیں لے کر جاؤں گا

سحر بانو ‌مجھے دل ہی دل میں بہت شرمندگی ہو رہی ہے۔

اگلے دن جب میں کالج جانے کے تیار ہوا ناشتا کیا تو وہ پہلے ہے چچی کے ساتھ ہمارے گھر آ گئی تھی آج بھی چچی نازیہ بولیں دونوں  اپنا حیال رکھنا  میں نے کہا ٹھیک ہے اور ہم چل پڑے جب اس گھڑے کے پاس سے گزرنے لگے تو میں نے موٹرسائکل بالکل آہستہ کے لیا تا کے وہ میرے بارے میں کوئی غلط نہ سوچ میں نے بہت ہمت جب ہم سڑک پر پہنچے تو میں نے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ہمت ہے نہیں ہو رہی تھی مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا

کے بات شروع کہاں سے کرو ں. بہت ہمت کی لیکن الفاظ تو ایسے جیسے میرے منہ .سے نکلنے کے لیے تیار ہی نہ تھے اتنی دیر. میں ہم لوگ سحر کے کالج کے. پاس پہنچ گئے جب موٹر سائیکل روکی تو وہ اُتر کے. جانے لگی تو میں نے ہمت کر کے اس کو آواز لگائی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں