سچے واقعہ سے متاثر مرغیوں کی آوازیں 13

سچے واقعہ سے متاثر مرغیوں کی آوازیں

سچے واقعہ سے متاثر مرغیوں کی آوازیں

فراز احمد

خدابخش نیشنل اسپتال کی. سیڑھیاں چرھتے ہوئے بچوں کے وارڈ کی جانب بڑھا .چلا جا رہا تھا، جہاں اس کا بیٹا سات دن. سے زیرعلاج تھا،وہ آج ہی خیر پور. سے کراچی پہنچا تھا،اس کے دائیں ہاتھ میں. پوٹلی تو دوسرے ہاتھ میں خیراں اور اس کے بیٹے کے .کپڑوں کا بیگ تھا، وہ سیڑھیاں چڑھ کر. دائیں جانب مڑا اور جنرل وارڑ کی. جانب چلنے لگا، اس وقت صبح کے سات بجے .تھے، اسپتال میں بچوں کے رونے کی آوازیں ،ہلکی. پھلی چہل پہل شروع ہو چکی تھی، سکیورٹی. گارڈ نے اس کی جانب ایک. نظر دیکھا اور اپنے موبائل پر پھر سے مشغول ہو گیا. خدا بخش کے ذہن میں اپنے بچے کے جلد ٹھیک .ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر بشری کا .چہرہ گھوم رہا تھا،

جو چار دنوں سے. نہ صرف اس کے بچے پر خصوصی توجہ دے. رہی تھی، بلکہ اس نے خدا بخش کو امید بھی دلائی .تھی کہ اس کا بچہ جلد از جلد صحت یاب ہو جائے گا، خدا بخش خو د بھی جانتا. تھا کہ چار دن قبل جب وہ اپنے بچے کو اسپتال. میں لے کر آیا تھا تو ڈاکٹر بشری ہی تھی جس نے. اس وارڈ میں شفٹ ہونے کے بعد اس کے بچے اللہ ڈنیو کو اس انداز میں ٹریٹ کیا تھا. کہ جس سے خدا بخش کو پوری امید ہو چلی. تھی کہ اس کا بیٹا جلد ٹھیک ہو کر گھر واپس جا سکے گا، اللہ ڈنیو کو دس دن قبل پہلے تیز بخار ہوا،مگر خیر پور میں غیر میعاری .علاج کی بنا پر خدا بخش اور اس کی بیوی. دونوں اپنے بچے کو کراچی لانے پر مجبور ہو گئے،

سچے واقعہ سے متاثر مرغیوں کی آوازیں

جب سے اللہ ڈنیو بیمار ہوا تھا، جب سے اللہ ڈنیو بیمار ہوا تھا،.خدا بخش کے کافی پیسے خرچ ہو چکے تھے، اور وہ خیر پور میں کافی لوگوں کا قرض دار بھی ہو چکا تھا،کل جب وہ خیر پور سے روانہ ہوا تو اس کے ذہن میں ایک خیا ل ابھرا اور اس نے فورا اس پر عمل کر نے کا فیصلہ کر لیا ۔ وارڈ میں داخل ہوتے ہی ا س کی نظر اپنے بچے پر پڑی اسکی جان میں جان آنے لگی کیو نکہ اب اللہ ڈینو کافی بہتر لگ رہا تھا، وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے بیٹے کے بیڈ کے قریب پہنچا اور کپڑوں کی پوٹلی اس نے اپنی بیوی کے ہاتھ میں دی، اور دوسری پوٹلی اس نے اللہ ڈنیو کے بیڈ کے نیچے منتقل کر دی اور اپنی بیوی سے باتیں کرنے لگا ۔

ڈاکٹر رخسار ٹھیک نو بجے بچوں کے وارڈ میں داخل ہوئیں ، وہ اس شعبے کی انچارج تھیں ، ان کے انڈر، دیگر ڈاکٹر اور دو ٹرینی ڈاکٹر تھیں ، وہ روزنہ ٹھیک نو بجے وارڈ میں بچوں کا چیک اپ کرتیں ، پھر پروفیسرز راونڈ کرتے بعد ازاں وہ گیارہ بجے واپس اپنے کمرے میں جا کر دیگر امور انجام دیتیں ، جیسے ہی وہ بچوں کے وارڈ میں داخل ہوئیں ، ان کے کانوں میں مرغیوں کے بولنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں ، پہلے تو انہوں نے سوچا کہ شاید یہ ان کا وہم ہو مگرمرغیوں کی آوازیں ان کے کانوں میں پڑنے لگیں تھیِ ، وہ تیزی سے آگے بڑھیں اور قریب کھڑے وارڈ بوائے کو بلا کرپاس آنے کا اشارہ کرنے لگیں ، یہ مر غیوں کی آوازیں کہاں سے آرہی ہیں ،

سچے واقعہ سے متاثر مرغیوں کی آوازیں

مستقیم ذرا دیکھو، جی وہ، ابھی کچھ کہنا چاہتا ہی تھا کہ ڈاکٹر رخسار کی نظر ڈاکٹر بشری پر پڑی جو اللہ ڈینو نامی بچے کو چیک کرنے میں مصروف تھی، اور اس سے باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا بخار چیک کرتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھیں ، ڈاکٹر رخسار کے کانوں میں پھر مرغیوں کے بولنے کی آوازیں پڑنے لگیں ، و ہ وارڈ بوائے سے مخاطب ہونے والی ہی تھیں کہ اللہ ڈینو بچہ کے قریب کھڑے اس کے والد نے جھک کر بیڈ کے نیچے ہاتھ ڈالا اور ایک پوٹلی نکال لی، ڈاکٹر رخسار وہیں سے اونچی آواز میں بولیں ، یہ سب کیا ہے، کیا ہے اس پوٹلی میں ، جی سائیں ، اس میں مر غیاں ہیں ، خدا بخش بولا ، مگر کس کے لیے، ڈاکٹر رخسانہ اس کے پاس پہنچیں

اور بولیں ، جی وہ ، یہ ڈاکٹر بشری کے لیے لایاہوں ، میں گاوں سے، یہ سن کر ڈاکٹر رخسانہ نے تیز نظروں سے ڈاکٹر بشری کو گھورا، اس کے لیے کیوں ، تم بتاو، ڈاکٹر بشری ، جی ، میڈم وہ، میں کچھ نہیں جانتی،ڈاکٹر بشری گھبرا ئے ہوئے انداز میں بولی،میڈم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر بشری نے اللہ ڈنیو کی بہت اچھے انداز میں دیکھ بھال کی ہے، اور میں ان کے لیے ہی لایا ہوں ، میڈم اپنی خوشی سے، خدا بخش ہاتھ میں مرغیوں کا تھیلا اٹھاتے ہوئے بولا، ہٹاو ان سب کو ، ابھی راونڈ ہونے والا ہے، پرو فیسرز اور دیگر سنیئرز ڈاکٹرز آنے والے ہیں ، ان سے پہلے ان مرغیوں کو دور کرو، ڈاکٹر رخسانہ نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا،

سچے واقعہ سے متاثر مرغیوں کی آوازیں

اس وقت پر وفیسرز کے آنے میں کچھ ہی دیر باقی رہ گئی تھی،انہوں نے وارڈ بوائے کو اشارہ کیا کہ وہ خدا بخش سے مرغیوں کا تھیلا لے کر جلد ازجلد وارڈسے باہر لے جائے ،وارڈ میں دیگرنرسز، سینٹری ورکرز ، اسٹاف یہ سب منظر دیکھنے میں مگن تھے، وارڈ بوائے خدا بخش کی جانب لپکا اور اس کے ہاتھوں سے تھیلا لے سکے ،کہ بھوکھلاہٹ میں اس کا پاوں رپٹا اور وہ خدا بخش سے جا ٹکرایا، اور دونوں زمین پر جا گرے، جبکہ تھیلا خدا بخش کے ہاتھوں سے نکل کر زمین پر جا گرا، اوراس میں سے مرغیاں نکل نکل کر وارڈ میں ادھر اودھر دوڑنے لگیں ، ایک مرغی کو اپنے قریب آتے دیکھ کر ڈاکٹر رخسانہ پیچھے ہٹیں ،

دیگر نرسز چیخنے لگیں ، ڈاکٹر بشری گھبرا کر وارڈ کاونٹر کی طرف بڑھیں ، مرغیوں کے شور ، آوازوں اور اس عجیب و غریب سچوئیشن کی وجہ سے وارڈ اب کھلبلی مچ چکی تھی، وارڈر بوائز،سینٹری ورکرز مل کر اب بچوں کے بیڈز کے نیچے اور دیگر جگہوں پر ان مرغیوں کو پکڑنے میں مصروف تھے، ایک عجب سا تفریح کا سماں تھا، بیڈز پر لیٹے بچے اب اس صورت حال پر ہنسنے لگے تھے، چار سال کا اللہ ڈینو بھی مسکرا رہا تھا، خدا بخش بھی خالی تھیلا اٹھائے مرغیوں کو پکڑنے میں مصروف تھا، ڈاکٹر رخسانہ کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے،

سچے واقعہ سے متاثر مرغیوں کی آوازیں

کہ ان کی نظر وارڈ کے گیٹ پر پڑی، جہاں سے پروفیسر ز اور دیگر ڈاکٹر وارڈ میں داخل ہورہے تھے، ان کے ماتھے پر پسینہ ابھر آیا تھا،چہرہ پر پریشانی نمایاں ہونے لگی تھی، جیسے ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہوکہ وہ اس صورت حال کو کس طرح سے ہینڈل کریں ۔
ختم شدہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں