میرا مطلب ہے، کیا آپ میری دلہن دوبارہ بنے گیں ہو۔ 10

میرا مطلب ہے، کیا آپ میری دلہن دوبارہ بنے گیں ہو۔

میرا مطلب ہے، کیا آپ میری دلہن دوبارہ بنے گیں ہو۔

یہ کک کیا کررہے ہیں آپ؟” ہالہ نے حیرت کے سمندر سے بمشکل تیرتے باہر نکل کر بوکھلا کر پوچھا اور ساتھ ہی اطراف پہ نظریں دوڑائی جہاں سب ان کی جانب متوجہ نہایت دلچسپی سے سین دیکھ رہئے تھے، سوائے منعم کے، جس پر وہ مزید بوکھلائی تھی “سس۔۔سیف۔۔کیا کر رہے ہیں آپ؟” اب کی مرتبہ ہالہ نے دانت پیسا تھا “بھابھی اب رحم بھی کردیجئے ہمارے دوست پر ، آپ کے قدموں میں اس نے اپنا دل رکھ دیا ہے” جنید کی مسکراتی آواز پر ہالہ کم حیران ، سیف شدید حیرت زدہ ہوتا اٹھ کھڑا ہوا اور اس کی جانب مڑا تھا، جہاں جنید اور عدی ساتھ کھڑے اسے شرارت سے دیکھ مسکرا رہے تھے۔ “تم جانتے تھے کہ ہالہ میری وائف تھی؟،

اور پھر بھی۔۔” سیف نے حیرت سے کہتے کہتے جملہ ادھورا چھوڑا تھا “ہاں پھر بھی۔۔ کیونکہ مجھے مدحت آنٹی نے یہ مشن دیا تھا کہ تمہارا دماغ ٹھکانے لگاوں، جو عرش پر پہنچا ہوا تھا زمین پہ لے آوں ، لگتا تو یوں ہے کہ میں اپنے مشن میں کامیاب ہوا ہوں” جنید کے شرارت سے کہنے اپنا کالر اکڑایا تھا “تو تمہیں یہی طریقہ ملا تھا گھٹیا انسان؟” سیف جنید کی جانب بگڑ کر بڑھا تھا حیران سی کھڑی ہالہ جیسے ہی معاملے کی تہہ تک گئی اس کی آنکھیں جیسے دکھ سے بوجھل ہوئی تھی (مام! آپ نے ایسا کیوں کیا؟، جس شخص کو خود احساس نا ہو ، اسے کوئی دوسرا کیا احساس دلائے گا؟) اگلے ہی پل ہالہ میٹنگ روم سے نکل گئی تھی “

میرا مطلب ہے، کیا آپ میری دلہن دوبارہ بنے گیں ہو۔

سوری یار مجھے اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ نظر نہیں آیا تھا” جنید سیف کی پہنچ سے دور جاتا ہوا بولا “اوریہ تم بھی جانتے تھے؟” سیف نے بدستور بگڑے لہجے میں مسکراتے ہوئے عدی سے پوچھا “ہم سے بعد میں حساب کتاب کرنا، بھابھی غصے سے یہاں سے گئیں ہیں” عدی کے یاد دلانے پر اسے ہالہ یاد آئی تھی جسے وہ حیرت کی شدت پر بھول بیٹھا تھا اگلے ہی پل وہ باہر کی جانب دوڑا تھا ” ہالہ۔۔” آدھے راستے میں ہی وہ ہالہ کو جالیا تھا ، اس کی جانب دوڑتے اسے بازو سے پکڑ کر روکتے ورکز نے حیرت سے سیف کو دیکھا تھا “سیف چھوڑیں مجھے، سب دیکھ رہیں ہیں” ہالہ کے ناگواری سے کہنے پر ،

وہ مزید ہالہ کے بازو پر گرفت مظبوط کرتا حیران نظر آتے ورکز کی جانب متوجہ ہوا تھا “مس ہالہ مصطفیٰ میری ڈیئرسٹ وائف ہیں، آپ لوگ تو آئے تھے نا ولیمہ کا کھانا کھانے تو پھر کیسے نہیں پہچانا؟۔۔” سیف ان سے کہہ رہا تھا، اور ہالہ نہایت ہی غصے میں اپنے بازو سے سیف کا ہاتھ جھٹکتے وہاں سے اپنے کیبن میں آئی تھی، جسے ورکرز سے بات کرتے ہوئے سیف نے جاتے ہوئے دیکھا تھا “ہالہ پلیز میرے سوال کا جواب دیں” سیف کا چہرہ جیسے جگما رہا تھا جب وہ کیبن میں داخل ہوتا ہوا بولا تھا “جواب چاہئے” ہالہ جیسے دبے دبے لہجہ میں غرائی تھی ” آپ کے لئے میں بد صورت ، جاہل، ملازماوں کی شکل وحلئے کی تھی،

میرا مطلب ہے، کیا آپ میری دلہن دوبارہ بنے گیں ہو۔

آپ آسمان کے چاند تھے تو میں زمین کی دھول تھی، مگر اب کیا ہوگیا آپ کو ؟، کیا زمین کی دھول آسمان پر چڑھ گیا ؟، یاچاند زمین پر آپہنچا ہے؟” ہالہ کا زہر زہر ہوتا لہجہ سیف کا جگمگاتا چہرہ جیسے ماند پڑا تھا وہ ساقط نظروں سے ہالہ کو دیکھا گیا تھا وہ اس کے پیچھے اپنی ایگو اکڑ بھلائے دوڑا پھررہا تھا اسے چاہئے تھا کہ خود پر ناز کرتی فخر کرتی مگر نہیں پچھلی باتوں کو گلے سے لگائے ہوئے تھی، سوچ کر ہی سیف کا موڈ لمحوں میں بگڑا تھا “تمہیں بھلے ہی پہلے ناپسند کیا ہو، مگر ان ہزاروں کی تعداد میں موجود لڑکیوں میں سے اگر کسی کو پسند بھی کیا ہے تو وہ بھی تم ہو ، محبت، پیار چاہت، سے سرفراز کرنا چاہا،

چاہتوں کا یقین دلانا چاہا ، توجہ کی حد کردیں، تم پر پورے جان سے فریفتہ و عاشق ہوا ، سارے میٹنگز، ضروری کام بھاڑ میں جھونک کر بڑی فرصت سے تم سے عشق فرمایا، تمہارے تفاخر کے لئے تو اتنا ہی کافی ہونا چاہئے کہ مجھ جیسا پرسن تمہارے آگے پیچھے خوار ہوتا پھر رہا ہے مگر ۔۔” “مگر یہ کہ واقعی مجھ جیسی گئی گذری لڑکی کو سیف صاحب کے پیروں میں گرجانا چاہئے نہیں کہ ان کی نظر کرم مجھ پر جو ہوئی، اگر چہ وہ صرف ایک دن کے لئے ہی کیوں نا ہو” سیف کے بگڑ کر کہنے پر ہالہ نے سیف کا جملہ بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے تلخ لہجہ میں کہا تھا “تمہارے کہنے کا مطلب کیا ہے؟” “

میرا مطلب ہے، کیا آپ میری دلہن دوبارہ بنے گیں ہو۔

سریسلی ! مطلب پرست سیف صاحب مطلب پوچھ رہے ہیں کیا بات ہے؟، کیا آپ خود اپنی باتوں کا مطلب نہیں جانتے؟، کیوں کر رہے ہیں یہ سب میں بھی اچھی طرح جانتی ہوں، اگر آپ یہ سوچ کر یہ سب عنایتیں کررہے ہیں کہ میں آپ کو اپنے قریب آنے کی اجازت دوں گی، یا دوسری لڑکیوں کی طرح آپ کی چھوٹی چھوٹی عنایتوں پر آپ کے باہوں میں جاگروں گی، تو جان لیں میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں، جائے کسی اور پر ٹرائے کیجئے یہ نوازشات کی بوچھاڑ” ہالہ جیسے انگارے چباتے ہوئی بولی تھی اور پھر سر جھٹکتی مڑ کر چیئر کی جانب بڑھ گئی اور سیف کا دماغ ہالہ کی بات سن کر جیسے بھک سے اڑا تھا،

” اگر میں مطلب پرست ہوتا تو بہت پہلے ہی تم سے اپنی مطلب حاصل کرچکا ہوتا مسز سیف الرحمن۔۔” سیف آگے بڑھ کر ہالہ کا بازو دبوچ کر اس کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے شدید غصے سے پھنکارا تھا ، ہالہ جیسے سیف کو اتنے شدید غصے میں دیکھ گنگ ہوئی تھی، ” اور مجھے اس مطلب کو حاصل کرنے کے لئے تمہاری اجازت کی قطعی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ تم پوری میری ملکیت ہو ، اور اپنی ملکیت سے کون اجازت لیتا ہے؟” سیف نے بدستور پھنکارتے ہوئے اسے چیئر پہ ڈھکیلا تھا، بے جان سی ہالہ چیئر پہ ترچھی جاگری تھی سیف کا لہجہ اور جملے سن کر ہالہ کے اندر جیسے دہشت کی لہر دوڑی تھی،

میرا مطلب ہے، کیا آپ میری دلہن دوبارہ بنے گیں ہو۔

اس کا پورا وجود .جیسے ٹھنڈے پسینے سے ٹھنڈا پڑا تھا . کہ حرکت کرنے کی بھی اس میں ہمت نہیں رہی تھی .اجازت ہاں۔۔” سیف اس کے اوپر مکمل جھکتے استہزاء انداز میں پھنکارا تھا، ہالہ کا .چہرہ اس کی آگ برساتی ہوئی آنکھوں. اور دہکتی ہوئی سانسوں سے جیسے جل اٹھا تھا، وہ. خوف سے آنکھیں میچتے ہوئے گردن موڑ گئی تھی “کیا مجھے اجازت کی ضرورت ہے؟.، اگر میں عنایت کررہاہوں تو اس .کا مطلب یہ نہیں کہ تمہاری اجازت چاہتا ہوں، کیونکہ. مجھے تم تک آنے کے لئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے” سیف نے سرد لہجے. میں کہتے ہوئے ہالہ کی تھوڑی ہاتھوں. سے جکڑ کر اپنی جانب کرتے ہوئے کہا تھا ،

جہاں ہالہ کے چہرے پر پھسلتے آنسوں سیف کے جلتے دماغ پر جیسے ٹھنڈے ٹھار پانی کا کام کرگیا تھا، غصہ اس طرح ٹھنڈا ہوا کہ وہ دنگ سا رہ گیا ، سیف نے فورا اپنی گرفت ہالہ کی تھوڑی پہ سے ہٹایا تھا ہالہ کے چہرے پر تیزی سے پھسلتے آنسوں اسے تکلیف دے رہے تھے ، جسے محسوس کرکے وہ جھنجھلاتا ہوا اٹھ کھڑے ہوا تھا، ایک وہ تھی کہ اس کی ایگو کو ہرٹ کئے جارہی تھی، اور معاف بھی نہیں کرہی تھی، اور ایک اس کا دل تھا جو اسے ہر نئی غلطی پر معاف کرتا اس کی جانب مزید خوار ہونے کے لئے متوجہ کرتا رہتا تھا سیف اپنے دل سے شدید ناراض ہوتا، سامنے پڑے ہر چیز کو بوٹ سے ٹھوکر مارتا کیبن سے نکل گیا تھا،

میرا مطلب ہے، کیا آپ میری دلہن دوبارہ بنے گیں ہو۔

اور پہچھے کرسی پہ گری روتی ہوئی ہالہ کو جیسے ہی احساس ہوا کہ سیف کیبن سے گیا تھا وہ کانپتے ہوئے صوفے پہ اٹھ بیٹھی تھی۔ سیف نے اس سے پوچھا تھا کہ وہ نڈر کیوں ہوگئی تھی، اور اس نے کہا تھا کہ وہ نڈر اس لئے ہوئی تھی کہ اب اس کے دل سے طلاق کا خوف نکل گیا تھا مگر بات طلاق کے خوف سےنڈر ہونے کی نہیں تھی، ہالہ کو اچانک ہی احساس ہوا کہ اس کے اندر اتنا اعتماد، سیف کے سامنے نڈر اور کھل کر کہنے کی ہمت کی وجہ خود سیف تھا، جب سیف نے اس سے اپنا رویہ تبدیل کیا تو جیسے ہالہ بھی تبدیل ہوتی گئی تھی، سیف کے نرم لہجے نے ہالہ کو جیسے ہمت و حوصلہ سے نوازہ تھا،

اور آج جب سیف کو اس نے پرانے جون میں غصے کی شدت کے ساتھ دیکھا تو ، جیسے پہلے کی طرح ڈر پوک سی ہالہ بن گئی تھی ، اس کی زبان جیسے گنگ ہوگئی تھی، حلق میں آواز اٹک گئی تھی، تو اس کے اندر تبدیلی کی وجہ بھی ، سیف الرحمن بنا تھا، ہالہ مسلسل روتے ہوئے سوچ رہی تھی، “آئی لو یو ہالہ” اس کے کان میں سیف کی آواز گونج رہی تھی تو کیا واقعی سیف اس سے محبت کرنے لگا تھا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔ “میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا کہ ججیز کو خرید لیں یا ہالہ پر کوئی الزام ڈال کر راونڈ سے باہر نکال دیں، اگر ہالہ فائنل راونڈ میں جیت گئی تو یاد رکھئے گا آپ کا پردہ فاش کرنے میں مجھے لمحہ بھی نہیں لگے گا”

میرا مطلب ہے، کیا آپ میری دلہن دوبارہ بنے گیں ہو۔

سیف نہایت ہی خراب موڈ سے اپنے آفس روم کی جانب بڑھا تھا مگر آفس روم کا دروازہ کھولتے ہی اس کے کانوں نے جیسے ہی منعم کو کسی کو دھمکاتا ہوا سنا ، سیف کا دماغ جیسے مزید خراب ہوا تھا۔ “اور یہ کرکے تمہیں کیا ملے گا؟” منعم کی پشت دروازے کی جانب تھی وہ اندر داخل ہوتے سیف کو دیکھ نہیں پائی تھی جبھی سیف کی سرد آواز سن کر چونک کر مڑی تھی، سیف کو اپنے سامنے دیکھ کر ایک لمحے کے لئے وہ بوکھلائی تھی “کیا تم نہیں جانتے مجھے کیا ملے گا؟” منعم فورا خود کو سنبھالتے اپنی ازلی اعتماد سے بولی ، جس پر سیف نے آنکھیں میچیں تھی، یہ وہ لمحہ تھا جس سے سیف ہمیشہ سے بچنا چاہتا تھا

کیونکہ وہ اپنی بچپن سے قائم دوستی کو کھونا نہیں چاہتا تھا، مگر اب وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ منعم مزید ہالہ کے راستے میں آئے یا اسے پریشان کریں، اس لئے اب شاید دو ٹوک بات کرنے کا وقت آگیا تھا۔ ” اور تم یہ بھی اچھے سے جانتی ہو منعم کے تم جو چاہتی ہو وہ کبھی تمہیں نہیں ملے گا ، وجہ ہالہ نہیں ہے، وجہ تم خود ہو، تم اچھے سے جانتی تھی کہ مام کبھی بھی یہ نہیں چاہتی تھی کہ میری شادی خاندان کی کسی لڑکی سے ہو۔۔۔” “آخر تم اتنے مماز بوئے کیوں ہو؟، تم بہت پہلے سے جانتے تھے کہ میں تمہیں پسند کرتی تھی ، مگر پھر بھی تم نے میری جانب کوئی توجہ نہیں دی ، کیوں ؟، اپنی ماں کی وجہ سے؟،

میرا مطلب ہے، کیا آپ میری دلہن دوبارہ بنے گیں ہو۔

پہلے ماں ماں کئے پھرتے تھے .اور اب بیوی کی بھی گردان کرنے لگے ہو، آخر. کیا کمی ہیں مجھ میں؟، بلکہ میں تمہاری. سو کالڈ بیوی سے ہزار گنا بہتر ہوں. منعم جیسے پھٹ پڑی تھی ” ہاں ہوں میں مماز بوئے .آخر اس میں خرابی کیا ہے؟، میری زندگی میں. دو عورتیں بے حد اہم ترین ہیں، جن کی. جگہ کوئی بھی نہیں لے سکتا ایک. میری مام جنھوں نے مجھے دنیا میں لایا ہے، بڑی محنت. اور مشقت سے میری پرورش کی اور دوسری. میری بیوی جو ساری دنیا چھوڑ کر .میرے لئے آئی ہیں، اور رہی تمہاری. بات میں نے کبھی تم پر توجہ کیوں نہیں دی تو وجہ یہ ہے. کہ منعم تم نے کبھی میری مام کی عزت نے. نہیں کی،

خاندان کی ساری دیگر عورتوں کی طرح تم نے بھی میرے مام کے ساتھ. بدتمیزی کی اور تمہیں لگتا ہے میں ایسی لڑکی. سے شادی کرتا جو میری مام کی زرا بھی. عزت نا کریں؟، تم ہمیشہ سے میری ایک. اچھی دوست تھی، ہو، اور رہو گی، یہ فضول. کی خناس اپنے دل سے نکال دو تو ہی بہتر ہوگا،. ورنہ پھر جو ہالہ سے دشمنی کرے گا وہ. ایسا ہوگا جیسے کہ اس نے مجھ سے دشمنی. کی ہے” سیف دو ٹوک انداز میں بات کہتا .آفس روم سے نکلا تھا اس نے سرعت سے سائیڈ. پر ہوتے خود کو سیف کی نگاہوں سے بچانے .کی کوشش کرتے عدی کو بھی نہیں دیکھا تھا. “میں اس لڑکی کے لئے چھگڑا کرتا. پھر رہا ہوں

میرا مطلب ہے، کیا آپ میری دلہن دوبارہ بنے گیں ہو۔

اور وہ لڑکی ہیں کہ مجھے. ہی مطلب پرست اور نجانے کیا کیا کہہ رہی ہیں. سیف سخت کبیدہ خاطر ہوتا جیسے ساری دنیا سے. ناراض گاڑی لے کر نکل گیا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں