میں اپنے گھرسویا ہوا تھا جب مجھے اچانک میرے کزن نے مجھے اٹھا دیا۔ 10

میں اپنے گھرسویا ہوا تھا جب مجھے اچانک میرے کزن نے مجھے اٹھا دیا۔

میں اپنے گھرسویا ہوا تھا جب مجھے اچانک میرے کزن نے مجھے اٹھا دیا۔

اور بولا کے کرن اپنے ہوسٹل سے واپس آ گئی ہے بس یہ سننا تھا میں اسی وقت اٹھا اور بھاگتا ہوا اپنی چھت پر چلا گیا کرن ابھی گھر میں داخل ہو رہی تھی میں اسے دیکھ کر پاگل ہو رہا تھا میرا دل تو کر رہا تھا کے میں سب کچھ بھول کر چھت  سے چھلانگ لگا دو اور جا کر اس کا ہاتھ تھام لوں اور اس کو بتا دوں کے میں تم کو کتنا پیار کرتا ہوں میں تمہارے بغیر اپنی زندگی جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا میں یہی سب کچھ سوچ رہا تھا تو پیچھے سے علی آیا ور بولا وہ تو چلی گئی ہے میں بولا چل پھر ہم بھی نیچے چلیں وو بولا تم جانتے ہو وہ تمہاری نہی ہو سکتی میں بولا میں جانتا ہوں لیکن کیا کروں تم جانتے ہو کے اگر چودھری شجاعت کو پتا چل گیا

تو پھر جب سے اس کی بیٹی نے بھاگ کر شادی کی تھی تب سے وہ پیار کے سحت خلاف ہو گیا ہے اس نے اپنی بیٹی کو اور اس کے شوہر کو پورے گاؤں کے سامنے قتل کیا تھا ور میرے ابو تم جانتے ہو ایک معمولی سے کلرک ہیں اور چچی نجمہ کو تو موقع ملنا چاہیے وہ تو مجھے خود چودھری شجاعت کے حوالے کر دے گی تم تو کچھ دن کے لئے ہے ہووے ہو تم کو ابھی ہمارے گاؤں کے  بارے میں کچھ نہی جانتے اس کے بعد میں علی کو لے کر گاؤں دکھانے کے لئے چلا گیا ایک کافی دیر اپنے گاؤں دکھانے کے بعد ہم واپس گھر آ گئے گھر ا کر کھانا کھایا اتنی دیر میں میری نظر دروازے کی طرف اٹھی تو بس اٹھی ہے رہ گئی

میں اپنے گھرسویا ہوا تھا جب مجھے اچانک میرے کزن نے مجھے اٹھا دیا۔

دروازے کی طرف. سے کرن آ رہی تھی اس آ کر میری امی کو سلام کیا. اور بولی چچی اپ کو میری امی بولا رہی. ہیں میری امی نے کہا اچھا بیٹی وہ اٹھ کر چلی گیں تو وہ میری چوٹی بہن سے باتیں. کرنے لگی میں بھی آہستہ سے اٹھا اور کرن کے پاس. جا کر کھڑا ہو گیا لیکن اس نے میری طرف. کوئی توجو نہ دی میں نے هود ہے بات کا آغاز کیا ور بولا تم تم ہوسٹل سے کب آئ. ہو تو وہ بے پرواہی سے بولی آج ہے ائی ہوں میں نے. پوچھا اب کتنے دن یہاں پر رہو گی تو وہ .بولی کے اب 1 ہفتے کے لئے آئ ہوں میں نے کہا اچھا اتنی دیر میں وو اٹھ کھڑی ہوئی. اور مجھے گھر پر کام ہے

میں بعد میں آؤں گی اور وو چلی گئی اتنی دیر میں علی بھی میرے پاس آیا اور ہم دونوں چھت پر چلے ہے تو وہ بولا وہ تو تم سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کرتی اور تم اس کے ساتھ پاگلوں کی طرح پیر کرتے ہو تو میں بولا چچی نجمہ نے ہمیشہ اپنی بیٹی کو یہی بولا ہے کے ہم سے دور رہے کہنے کو تو وہ سگے چاچو کی بیٹی ہے لیکن بچپن سے لے کر اب تک اس کی امی نے ہمیشہ اس کو ہم سے دور ہے رکھا ہے لیکن مجھے کوئی فرق نہی پڑتا اب تو وہ یہاں پر ہی ہے ایک مہینے کے لئے میرے لئے بس یہی بہت ہے تو علی بولا کے تم اس سے بات کرو اگر اس کو تم پسند نہ ہووے تو پھر بھی وہ تم کو بتا دے گی

میں اپنے گھرسویا ہوا تھا جب مجھے اچانک میرے کزن نے مجھے اٹھا دیا۔

لیکن مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کے میں  اس سے اپنے پیر کا اظہار کروں مینے کہا اچھا ٹھیک ہے بتا دوں گا وو بولا تم ہر بار اسی تارہ بولتے ہو لیکن تم آج تک اس کو بتا نہیں میں نے اس سے جن چھوڑوانے کے لئے بولا اچھا تھک ہے بتا دوں گا اس کے اتنی دیر میں میرے ابو بھی ا گئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں