کیا تم مجھے سے شادی نہیں کرنا چاہتے ہو۔ 9

کیا تم مجھے سے شادی نہیں کرنا چاہتے ہو۔

کیا تم مجھے سے شادی نہیں کرنا چاہتے ہو۔

اور اس نے کال بند کر دی میں نے شائستہ سے کہا اب بھی تم کوئی بات نہیں کرنا چاہتی شائستہ رونے لگ گئی اور بولی اگر وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تو اس نے مجھ سے کیوں وعدہ کیا تھا کے وہ مجھ سے شادی کرے گا میں نے اس کے لئے  اپنی پوری فیملی کو چھوڑ دیا میں اب کیا کروں میں نے کہا تم فکر نہ کرو اور چپ ہو جو ابی کچھ نہیں بگڑا اگر تم چاہو تو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں اگر ایک دفع احمد کی شادی سلمہ سے ہو گئی تو تم کچھ بھی نہیں کر سکو گی وہ صرف تم سے جن چھوڑوانا چاہتا ہے تم میرے ساتھ چلو اس کے باپ کو سب کچھ بتا دو میں جانتا ہوں اس کا باپ ایک بہت اچھا انسان ہے وہ تمہارے ساتھ کبھی کوئی غلط نہیں ہونے دے گا

وہ بولی اگر احمد کو اتا چل گیا. تو وہ مجھ سے نفرت کرنے لگ جائے گا میں .نے کہا وہ اپنے باپ سے بہت ڈرتا ہے. تم چلو میرے ساتھ وہ سوچنے لگ پڑی. کے کیا کروں میں نے کہا میری بہن تم اپنے بارے میں. نہیں تو اس معصوم کے بارے میں سوچو جو .تمہارے پیٹ میں بچہ ہے اس کے بارے. میں سوچو وہ بولی تھک ہے لیکن اگر. میں نے کہا تم چلو میری بہن میں تمہارے ساتھ ہوں میں تمہارے ساتھ غلط نہیں ہونے دوں گا اس. کا دل تو کر رہا تھا کے یقین کر لے لیکن. دماغ اجازت نہیں دے رہا تھا لیکن وہ. تیار ہو گئی تھوڑی دیر بعد میں اور وہ رکشہ میں سلمہ .کے گھر پوھنچ گئے سلمہ مجھے شائستہ کے .ساتھ دیکھ کر حیران ہو گئی کے یہ کون ہے

کیا تم مجھے سے شادی نہیں کرنا چاہتے ہو۔

میں نے سلمہ سے پوچھا چچا فیاض گھر ہیں وہ بولی ہاں گھر ہے ہیں لیکن یہ کون ہیں اور تمہارے ساتھ میں نے کہا بتاتا ہوں میں شائستہ کو لے کر چچا فیاض کے کمرے میں پوھنچ گیا وہ مجھے دیکھ کر اٹھ گئے اور بولے اب تم یہاں پر کیس کرنے آے ہو میں نے کہا اپ مجھ پر تو یقین نہیں کر سکتے لیکن اپ اتنے بارے ثبوت کو دیکھنے کے بعد سچائی کو نہیں جھٹلا سکتے وہ بولے کیا مطلب میں نے کشس یہ سب اب شائستہ بتاے گی شائستہ رونے لگی اور سسکیاں لینے لگی اتنی دیر  میں سلمہ بھاگتے ہووے شائستہ کے لئے پانی لے آیی چچا نے شائستہ کو چارپائی پر بٹھایا اور بولے بیٹا کیا بات ہے اور کون ہو تم وہ بولی میں اپ کے بیٹے سے پیر کرتی ہوں

اور اس نے مجھ سے شادی کرنے کا وعدہ کیس ہوا ہے وہ میری طرف دیکھنے لگے کے میں تم کو اتنا گرا ہوا نہیں سمجتا تھا کے تم اس حد تک گر سکتے ہو میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور بولا کے یہ سپ کیا بول رہے ہیں وہ کہنے لگے کے میں نے صبح تم سے بولا بھی تھا کے تم مجھ سے اور ہماری فیملی سے دور رہو میں نے کہا مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے اپ کے خاندان میں کوئی مداهلت کرنے کی میں صرف یہ چاہتا ہوں کے میری دوست سلمہ کے ساتھ کچھ برا نہ ہو شائستہ بولی میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہیں جو اپ سے آ کر کسی لالچ میں کچھ بھی بول دوں اتنی دیر میں احمد بھی گھر آ  گیا

کیا تم مجھے سے شادی نہیں کرنا چاہتے ہو۔

چچا فیاض نے احمد کو آواز دی اور بولے یہاں اؤ وہ شائستہ کو دیکھ کر کچھ گھبرایا لیکن پھر ساتھ ہی سمبھل گیا وہ بولا جی ابو اس چچا فیز نے غصہ سے احمد سے پوچھا کے یہ کیا کہ رہی ہے وہ بولا میں نہیں جانتا ابو اس کو یہ کون ہے شائستہ نے کہا یہ تم کیا بول رہا ہو کے تم مجھے نہیں جانتے احمد اتنا ذلیل انسان تھا کے وہ بولا ہاں میں تم کو نہیں جانتا وہ بولی اور یہ جو میرے پیٹ میں تمہاری نشانی ہے کیا تم اس کو بھی نہیں جانتے اس نے صاف صاف انکار کر دیا بی بی میں تم کو نہیں جانتا تو اس بچہ کو کیسے جن سکتا ہوں شائستہ بولی کچھ تو شرم کرو اتنا بڑا جھوٹ شائستہ نے موبائل میں سے کچھ اپنی اور احمد کی اکٹھی لی گئی

تصویریں چچا فیز کو دکھا دی چچا نے تصویر دیکھی تو غصہ سے بولے اگر تم اس کو نہیں جانتے تو یہ تصویریں کہا سے آیی ہیں انہوں نے زور دار تھپڑ احمد کے منہ پر مارا اب احمد کے لئے بھی سچائی کو جھٹلانا ممکن نہیں تھا وہ خاموش رہا اتنی دیر میں سلمہ کی  ماں بھی کہیں گئی ہوئی  تھی واپس گھر آ  گئیں انہوں نے کہا کیا بات ہو گئی ہے فیاض تم پاگل تو نہیں ہو گئے جوان بیٹے پر اس تسرہ وی ہاتھ اٹھاتا ہے وہ بولے یہ کم میں نے آج سے بہت پہلے کیا ہٹا تو آج اس طرح شرمندہ نہ ہونا پڑتا مجھے چچا نے کہا اس سے پہلے میں کچھ کر دوں یہاں سے دفعہ ہو جاؤ آج کے بعد تم میرے لئے مر گئے اور میں تمہارے لئے مر گیا ہوں

کیا تم مجھے سے شادی نہیں کرنا چاہتے ہو۔

اس نے میرے گریباں پکڑا اور بولا میں تم کو چھوڑو گا نہیں میں تم کو جان سے مار دوں گا چچا نے اسے ایک اور زور دار تھپڑ مرا اور بولے دفعہ ہو جو یہاں سے وہ گھر سے نکل گیا سلمہ کی ماں بار بار بول رہی تھی کیا بات ہے تم یہ کیوں کر رہے ہو احمد گھر سے چلا گیا تو سلمہ کی ماں بولی یہ تم نے کیا  کیا****

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں