گریویٹی اور الیکٹرومیگنیٹک فورس کون تھے۔ 11

گریویٹی اور الیکٹرومیگنیٹک فورس کون تھے۔

گریویٹی اور الیکٹرومیگنیٹک فورس کون تھے۔

اگر ہم ایک چیز کو زمین۔ سے کچھ بلندی پر لا کر چھوڑ دیں تو وہ۔ زمین کی طرف گرے گی۔ اس عمل کی وضاحت ہم گریویٹی سے کریں گے، کہ زمین کی گریویٹی نے اس چیز کو اپنی طرف کھینچا۔ گریوٹی کائنات میں جگہ جگہ موجود ہے۔ چاند کا زمین کے گرد گھومنا، چاند اور زمین کا مجموعی طور پر سورج کے گرد گھومنا، سورج کا ملکی وے گیلیکسی کے مرکز کے گرد گھومنا اور گیلیکسیز کا آپسمیں جھرمٹ بنا کہ رہنا سب گریویٹی کی مرہون منت ہے۔ لیکن کائنات میں ایک اور قوت بھی ہے جس کا نام الیکٹرومیگنیٹک فورس ہے۔ یہ فورس ایٹم کے نیوکلیس اور الیکٹرونز سے لے کر ایٹمز سے بننے والی ہرٹھوس، مائع اور گیس شےمیں موجود ہے

۔کرسی، میز، کتابیں، دیواریں، دروازے، کپڑے، پہاڑ، زمین وغیرہ اسی فورس کی بدولت بنے ہوئے ہیں۔ جس کمپیوٹر یا موبائل کی سکرین پر آپ یہ الفاظ پڑھ رہے ہیں وہ ڈیوائس بھی الیکٹرومیگنیٹک فورس کا نتیجہ ہے اور ہمارے جسم کے ایٹمز بھی اسی فورس کی وجہ سے ملکر ہمارے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ تمام مقناطیس اور بجلی اور بجلی پر چلنے والی تمام اشیاء کے پیچھے الیکٹرومیگنیٹزم ہی کار فرما ہے۔ اب اگر ہم گریوٹی اور الیکٹرومیگنیٹک فورس کی طاقت کا آپس میں موازنہ کرتے ہیں۔ زمین پر پڑے ہوئے ایک کیل کو ایک مقناطیس کے ساتھ چپکا کر اوپر اٹھائیں۔ آپ مشاہدہ کریں گے

گریویٹی اور الیکٹرومیگنیٹک فورس کون تھے۔

کہ یہ نہایت آسانی والا کام ہے۔ لیکن اگر آپ غور کریں توپتہ چلے گا کہ ایک طرف پوری زمین ہے جو لوہے کے کیل کو گریویٹی کی وجہ سے اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور دوسری طرف زمین کے لحاظ سے ایک نہایت چھوٹا میگنیٹ اس کیل کو اپنے ساتھ چپکائے ہوئے ہے۔ اس تجربے سے یہ نتیجہ آسانی سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ان حالات میں الیکٹرومیگنیٹک فورس گریویٹی سے بہت طاقتور ہے۔
اس کام میں میگنیٹ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ ہاتھوں سے بھی کسی چیز کو اٹھاتے ہیں تو وہ بھی الیکٹرومیگنیٹک فورس کی بدولت ہے۔ ایک طرف ہاتھ کی طاقت اور ایک طرف پوری زمین کی۔ گریویٹی، تو نتیجہ پھر وہی۔ ہےکہ ان حالات میں گریویٹی الیکٹرومیگنیٹک فورس سے بہت کمزور ہے۔

آداب

تحریر جناب یُوسف حُسین صاحب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں