گلگامش پروجیکٹ سے کوئی عورت محفوظ نہیں تھی 8

گلگامش پروجیکٹ سے کوئی عورت محفوظ نہیں تھی

گلگامش پروجیکٹ سے کوئی عورت محفوظ نہیں تھی

تحریر۔۔۔فرازاحمد

اور تمام مرد اس کے غلام تھے ۔ انسان دیوتاؤں سے منہ پھیر لیتے اگر وہ گلگامش کو قابو نہ کرتے ، یونانی زبان میں گلگا مش کو گلگاموس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، روایت ہے کہ وہ جزوی دیوتا اور جزوی انسان تھا ۔ وہ اروک کا پانچواں بادشاہ تھا ۔ اس کی زندگی اور اعمال اتنے متاثر کن تھے کہ سمیرین کی بعد کی نسلوں میں اس کی کامیابیوں کے چرچے ہوتے رہے ۔ اس نے سمیری شہر میں شاندار دیواریں اور ٹاورز تعمیر کیے ہیں ، جس کے چاروں طرف اونچی دیواریں ہیں ۔ لیکن جیسا کہ اسے احساس ہوا کہ اس کی طاقت عام انسانوں سے باہر ہے ، وہ جلد ہی ایک ظالم ظالم بن گیا ۔ اس نے اپنے لوگوں کے ساتھ بدسلوکی شروع کی ،

ہر عورت کے ساتھ زیادتی. کی جس پر اس کی نظر تھی اور لوگوں. کو اپنے ذاتی تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے. پر مجبور کیا ۔ گلگامش کی داستان ادب .کے قدیم ترین شاہکاروں میں شمار ہوتی ہے ، آہستہ. آہستہ پہچان اور مقبولیت حاصل کر رہی. ہے ۔ جدید دور میں پہلی جنگ عظیم کے بعد کے. دور میں گلگامش نے بہت زیادہ سامعین .کی توجہ حاصل کی کیو نکہ اس نے ہمیشہ .زندہ رہنے کا راز جاننے کی کوشش کی، اور. انڈر ورلڈ کا طویل سفر کیا، مگر خالی ہاتھ واپس. لوٹا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ کوئی آدمی .لافانی نہیں ہے ۔ ،گلگامش عام طور پر. سمیرین افسانوں کا ایک افسانوی کردار سمجھا. جاتا ہے ، حالانکہ بہت سے مصنفین اور دانشوروں. کا کہنا ہے

گلگامش پروجیکٹ سے کوئی عورت محفوظ نہیں تھی

کہ وہ در حقیقت ہزاروں سال پہلے زندہ رہا ہو گا ۔ اسے زمین پر پہلا ہیرو کہا جاتا ہے ، پر یہ پروجیکٹ کو ’گلگا مش کیا ہے، یہ پروجیکٹ دراصل ایک مشن ہے، ایک خیال ہے، ایک کوشش ہے، جستجو ہے، کہ یہ ممکن ہے کہ انسان ہمیشہ زندہ رہے، کیا لافانیت کا راز محفوظ ہے، کیا کچھ لوگ اس بارے مین جانتے ہیں ، آج کل نظریات اس بات پر مرکوز ہیں کہ انسان کیسے بوڑھا ہو رہا ہے ، کیا یہ مورثی تبدیلی ہے، موت سے لڑنے والے خلیات کون سے ہیں ،سیلز کا متبادل کیا ہے،جینیاتی تغیرات کیا ہے، گلگلا مش پرجیکٹ مین عمر کے بڑھنے ،پروگرامنگ جاننے ، ارتقاکا جائزہ لیا جاتا ہے، یہ پروجیکٹ اس بات پر زور دیتا ہے

کہ پروٹین کی ترتیب کے ساتھ ساتھ منشیات کے نفاذ اور دانشمندانہ نامیاتی ڈھانچے جدید ترین نینو ٹیکنالوجی کے لیے راستہ کھول سکتے ہیں ، اس پروجیکٹ کے ذریع ہم جوانی اور بڑھاپے کے میکانزم کے جدید تصورات کو چیلنج کر سکتے ہیں ،جو بھی انسان دنیا میں آیا اسے ایک دن مرنا ہے اور اس دنیا سے چلے جانا ہے، دنیا کے سب مذاہب میں مو ت اور اس کے بعد کی زندگی کا تصور موجود ہے، اور موت نا گریز ہے، جدید دور کے اختتام سے پہلے ، بیشتر مذاہب ،نظریات ، عقائد موت کو زندگی کا معنی بتاتے رہے ہیں ،موت کیا ہے ،کی اس پر قابو پایا جا سکتا ہے، ناممکن ہے، مگر موت پر قابو پانے ، شکست دینے اور زمین پر ہمیشہ رہنے کی خواہش ہمیشہ سے رہی ہے،

گلگامش پروجیکٹ سے کوئی عورت محفوظ نہیں تھی

لافانی کی تلاش مکمل ہونے میں کتنا وقت لگے گا، سو سال ، پانچ سو سال ، یا پھر ایک ہزار سال کوئی نہیں جانتا، انسانی جسم کے بارے میں کتنا کم جانتے تھے ، اور ہم نے ایک صدی میں کتنا علم حاصل کیا ہے ،جینیاتی انجینئرز نے حال ہی میں کیڑے کی اوسط عمر کو دوگنا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ کیا ایسا انسانوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے،اس وقت نینو ٹیکنالوجی کے ماہرین لاکھوں نینو روبوٹس پر مشتمل بایونک مدافعتی نظام تیار کر رہے ہیں ، جو ہمارے جسم میں داخل ہو کر، خون کی نالیوں کو کھولیں گے ، وائرس اور بیکٹیریا سے لڑیں گے ، کینسر کے خلیوں کو ختم کریں گے اور یہاں تک کہ عمر بڑھنے کے عمل کو بھی ریورس کرسکیں گے ۔

ماہرین کے خیال میں انسان 2050 تک کچھ انسان فانی بن جائیں گے ، مگر یہ پھر بھی لافانی نہیں ہو گا کیونکہ وہ حادثوں میں بھی مر سکتے ہیں ، مگر ایک اچانک موت ، صدمہ جیسے علامتوں سے لوگوں کی زندگیوں کو غیر معینہ مدت تک بڑھایا جا سکے گا، جدید دور میں ترقی کردہ معاشرے اور سائنس دانوں کے نزدیک موت ناگریز تقدیر نہیں بلکہ ایک تیکنیکی مسئلہ ہے، لوگ اس لیے نہیں مرتے کہ موت کے ساتھ ،م زندگی اور زندگی کے ساتھ موت ہے، بلکہ انسان تیکنکی خرابیوں کی وجہ سے ہارٹ اٹیک ، کینسر انفیشکن کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں ، جیسا کہ جدید دور میں پیس میکر کے ذریعے دل کو متحرک رکھا جاسکتا ہے ،

گلگامش پروجیکٹ سے کوئی عورت محفوظ نہیں تھی

کینسر کو تابکاری یا ادویات کی مدد سے مارا جا سکتا ہے، بیکٹیریا کو انٹی باڈیز کی مدد سے دبایا جاسکتا ہے، سائنس دان آج بڑھاپے کے ذمہ دار جسمانی ، ہارمونل ، جینیاتی نظاموں کی تحقیقات کرنے میں مصروف ہیں ، اور نت نئی دوایاں تیارکر رہے ہیں ، آج تک کوئی موت کو شکست نہیں دے سکا، مگر آج جدید سائنس ایسی ادویات تیار کر چکی ہے جو صدیوں پہلے نا قابل فہم تھیں ۔ جیسا کہ 1199 میں بادشاہ رچرڈ دی لیون ہارٹ کو اس کے بائیں کندھے میں تیر لگا اور وہ گینگرین کا شکار ہو گیا، اس دور میں گینگرین کو روکنے کا واحد طریقہ متاثر اعضا کو کاٹنے کا تھا، کیو نکہ انفیکشن کندھے میں تھا اس لیے کوئی اس کی مدد نہیں کر سکا،

کنگ رچرڈ کی دو ہفتوں مین ہی ازیت ناک موت ہوئی ، انیسویں صدی تک ڈاکڑوں کو انفیکشن روکنے اور ٹشوز کو روکنے کا کوئی طریقہ معلوم نہیں تھا، جنگوں کے بعد گینگرین سے متاثر فوجیوں کے ہاتھ اور ٹانگیں کاٹ دی جاتیں ، ایتھر، کلوروفام اور مارفین سے پہلے ہم واٹر لو کی جنگ میں فلیڈ اسپتالوں میں فوجیوں کے کٹے ہوئے ہاتھوں اور ٹانگوں کے ڈھیر دیکھے جا سکتے تھے،مگر دو صدیوں کبعد صورت حال بدل گئی ، گولیان ، انجیکشن اور آپریشنز سے بیماریوں اور چوٹوں کا علاج کامیابی سے کیا جانے لگا، اوسط عمر متوقع تقریبا جو پچیس سے چالیس سال تھی ،اسی سال تک پہنچ گئی، مگربچوں کی اموات کو بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔

گلگامش پروجیکٹ سے کوئی عورت محفوظ نہیں تھی

بیسویں صدی تک .زرعی معاشروں کے ایک چوتھائی اور. ایک تہائی بچوں کی تعداد کبھی جوانی تک نہیں پہنچ .سکی، زیادہ تر بچے بچپن کی بیماریوں جیسے ڈائریا ، خسرہ اور چیچک کا شکار. ہو جاتے تھے ،اتنی ترقی کے بعد کوئی نہیں. جانتا کہ کون کب مرے گا، کس کو کس طرح موت. آئے گی، مگر موت کے بعد زندگی پر ایمان ہر انسان کے لیے ضروری ہے. کیو نکہ ہر ایک نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں