یار کہاں ہو تم۔ کیک کا آڈر تم نے ہی دیا تھا ناں؟ 9

یار کہاں ہو تم۔ کیک کا آڈر تم نے ہی دیا تھا ناں؟

یار کہاں ہو تم۔ کیک کا آڈر تم نے ہی دیا تھا ناں؟

ہاں ، آرہا ہوں میں کہتے ہوئے سیف نے کال کاٹ کر بڑا سا باہر کی جانب سے سیاہ اور اندر کی جانب سے ڈارک میرون رنگ کا گھٹنوں سے نیچے جاتے ، اور گردن تک کھڑی کالر والی ویمپائر کوٹ کو پہننے کے بعد اس نے آخری مرتبہ خود کو مرر میں دیکھا۔ آج نوشہ کا برتھ ڈے تھا، اور اس نے اپنی برتھ ڈے پارٹی میں فینٹیسی تھیم ڈریس کوڈ رکھا تھا، اور ہر ایک کا کاسٹیوم نوشہ نے خود ہی سجیسٹ کرکے برتھ ڈے کارڈ کے ساتھ لکھ کر بھیجا تھا، اس نے سیف کے لئے ویمپائر کاسٹیوم سجیسٹ کیا تھا ، ورنہ وہ خود کبھی خود کے لئے اس کاسٹیوم کو نا چنتا جس میں سیاہ رنگ ضروری تھا، بلیک سوٹ پہ ویمپائر کوٹ پہنے،

بالوں کو جیل کی مدد سے پیچھے کی جانب سیٹ کئے تھا، جو نوشہ کا بھیجا گیا اسٹائلش اسے تیار کرگیا تھا، وہ ایک انتہائی ہینڈسم ویمپائر لگ رہا تھا۔ “کیا کیک ابھی تک نہیں آیا؟” گھر کے لان میں پارٹی کا انتظام بہت ہی خوبصورت طریقے سے کیا گیا تھا، اور ہر جانب کاسٹیوم میں ملبوس ہجوم میں سے اس نے عدی کو بمشکل ڈوھونڈا تھا جو بیٹ مین کے سیاہ کوسٹیوم میں تھا۔ سیف پر نظر پڑتے ہی وہاں موجود لڑکیاں اسے گھورنے لگی تھی “یہ نشوہ نے تمہیں کیا بنا دیا؟” سیف بے ساختہ ہنسا تھا عدی کو دیکھ جس پر عدی نے برا سا منہ بنایا ” بس تم ہی رہ گئے تھے، ہاں کیک آگیا ہے” عدی نے کہتے ہوئے اشارہ کیا تھا جس جانب سیف نے مڑ کر دیکھا

یار کہاں ہو تم۔ کیک کا آڈر تم نے ہی دیا تھا ناں؟

جہاں اسے دو دو نوشہ کھڑی نظر آئی ، سیم کاسٹیوم میں، سیفد برف جیسے خوبصورت گاون پر کاندھے تک جاتے کھلے بالوں کے خوبصورت ہیئر اسٹائیل میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ، وہ کسی اینجل کے کاسٹیوم میں تھی سفید پشت کی جانب سے باہر کو نکلتے ‘پر’ اور سر سے ایک فٹ اوپر موجود سفید ہالہ جو یقینا کسی ہیئر بینڈ کا کمال تھا، اپنے برتھ ڈے پارٹی کی وہی جان لگ رہی تھی ، ان دو نوشہ میں سے ایک اسٹیچو بنی ہوئی تھی اور دوسری خوب چہک رہی تھی۔ “اب یہ مت کہنا وہ دوسری والی اسٹیچو بنی نوشہ کیک ہے؟” “وہ کیک ہی ہے، پہلے میں بھی اتنا ہی حیران ہوا تھا” سیف کے حیرانگی سے کہنے پر عدی نے کہا “کمال ہے ،کتنا پرفیکٹ ہے

ہیلو ہینڈسم ویمپائر اور ہینڈسم بیٹ مین ” تبھی وہاں منعم آئی تھی ، ملیفیسنٹ کے لک میں وہ بھی کافی خوبصورت لگ رہی تھی ، یہ الگ بات تھی کہ اس کے سر کے اوپر موجود دو نوکیلی سینگوں کو دیکھنا تھوڑا عجیب لگ رہا تھا۔ “تمہارے لئے پرفیکٹ کاسٹیوم چوز کیا ہے نوشہ نے، یہ اس نے میرے لئے کیوں نہیں کیا؟” منعم کے ساتھ موجود معاز نے کہا تھا معاز ان کی بڑی پھوپھی (شبانہ) کا بیٹا تھا جو پائریٹ کے کاسٹیوم میں تھا “یہ برتھ ڈے پارٹی سے ذیادہ ، ہالوین پارٹی لگ رہی ہیں، اور سیف بھائی کو سب لڑکیاں حسرت سے گھور رہی ہیں،” ان کے ساتھ آکر جڑتی امرینہ (چھوٹی پھوپھی کی بیٹی) نے کہا تھا، جو راپینزال کے کاسٹوم میں تھی

یار کہاں ہو تم۔ کیک کا آڈر تم نے ہی دیا تھا ناں؟

“نوشہ کا برتھ ڈے نوشہ کی مرضی، اور سیف تو ہمشیہ اپنی پرسنالٹی کے باعث محفل میں چھایا رہتا ہے” منعم نے مسکراتے ہوئے کہہ کر کاندھا اچکایا تھا “سہی کہا سیف بھائی اتنے ہینڈسم لگ رہے ہیں ، ویمپائر بن کر ، کہ لڑکیاں خود ہی کھینچی آئی گی آپ کی جانب کہ انھیں بائٹ کرے” امرینہ کے شرارت سے کہنے پر وہ ہنسنے لگے تھے “ویسے سیف بھائی بھابھی کہاں ہے ؟، اور وہ کونسے کاسٹیوم میں ہے؟” “وہ کوئی بھی کاسٹیوم میں کیوں نا رہے ، کوئی فرق نہیں پڑھتا۔۔” “منعم” منعم کے استہزا انداز میں کہنے پر عدی نے جیسے اسے تنبہہ انداز میں آگے کہنے سے روکا تھا سیف کے لبوں پہ پھیلی مسکراہٹ سمٹی تھی “بھابھی ۔

۔۔” تبھی عدی کے کہنے پر ان سبھی نے مڑ کر داخل ہوتی ہالہ کو دیکھا تھا، سیف کی سانسیں بے ساختہ کئی لمحوں کے لئے جیسے رکی تھی، سیاہ اور میرون کامبینیشن کا قدموں تک چھوتے اسٹائلش سے فراک میں ، اس نے ویمپائر کی طرح ڈارک میک اپ کیا ہوا تھا، جس میں وہ کافی ہٹ کر اور خوبصورت لگ رہی تھی، کہ پہچانی ہی نہیں جارہی تھی “اوہ یہ تو لیڈی ویمپائر بنی ہیں، ویسے یہ بھی کافی خوبصورت لگ رہی ہیں” معاذ نے ستائشی انداز میں کہا تھاجس پر منعم نے نا پسندیدگی سے اسے دیکھا تھا، اس نے دیکھا تھا کہ اکثر کے چہرے پر ہالہ کو دیکھ یہی تاثرات امڈے تھے، جو منعم کو حسد میں مبتلا کرگیا تھا “یہ ہالہ ہے ،

یار کہاں ہو تم۔ کیک کا آڈر تم نے ہی دیا تھا ناں؟

مشہور بزنس مین سیف الرحمن کی وائف ” منعم کے باآواز بلند کہنے پر پارٹی میں موجود سبھی اس کے جانب متوجہ ہوئے تھے ہالہ جو پہلے ہی اس قسم کے عجیب و غریب پارٹی میں شامل نہیں ہونا چاہتہی تھی گبھرا رہی تھی اب منعم کے اس علان پر سب کو عجیب نظروں سے دیکھتے دیکھ اس کی حالت غیر ہونے لگی تھی “تم کیا کرنا چاہتی ہو؟” سیف نے ناگواری سے پوچھا تھا “ناراض کیوں ہورہے ہو؟، تمہاری بیوی کا تعرف کروا رہی ہوں” “یہ توہماری سوسائٹی کی نہیں لگتی” تبھی اپنی غیر ہوتی طبیعت کے ساتھ ہالہ نے سنا تھا، “صاف ظاہر ہیں” “یہ تو بے چارے سیف پر ظلم ہوا ہے” ” سانولی ہے مگر چلو خوبصورت لگتی ہے

مگر صرف خوبصورتی. ہی تو سب کچھ نہیں ہوتی ناں، یہ ایک دم. مس میچ جوڑی ہے ” بھانت بھانت کی .تضحیک بھری باتیں سن کر ہالہ .کے آنکھوں میں آنسوں بھرنے لگے تھے سن ہوتے دماغ کے ساتھ .اسے محسوس ہوا کہ وہ مزید اپنے پیروں. پہ نہیں کھڑی رہ سکتی تھی، اس سے. پہلے کے وہ اپنا سارا ضبط .کھوتے ہوئے زمین بوس ہوتی، ایک مرتبہ پھر وہ بے مہر اس کا ڈھال بنتا .مہربان ہوا تھا ” یہ آپ کون ہوتیں ہیں. طئے کرنے والی کہ ہمارا کپل مس .میچ ہے یا نہیں” وہ اسے .کاندھوں سے تھام کر اپنے ساتھ لگائے بولا تھا “مجھے اپنی وائف سے بہت محبت. ہے، اور یہ محبت ہی کافی ہے. ہمارے کپل کو پرفیکٹ بنانے کے لئے .مزید اور کسی چیز کی. ضرورت نہیں ہمیں

یار کہاں ہو تم۔ کیک کا آڈر تم نے ہی دیا تھا ناں؟

۔” سیف نہایت ہی محبت سے اپنی۔جانب آنسوں اور حیرانگی بھری آنکھوں سے دیکھتی ہالہ سے کہتا اب مجمع سے کہہ رہا تھا “یہ اسے کیوں پروٹیکٹ کررہا ہے؟” شعلہ بھری نظروں سے ہالہ کو گھورتی منعم نے کہا تھا “کیوں کہ وہ اس کی بیوی ہیں” عدی نے فورا جواب دیا “بیوی۔۔ جس سے وہ نفرت کرتا ہے” “منعم۔۔” منعم کے استہزا انداز میں کہنے پر عدی نے اسے ڈانٹا تھا۔ “کیا تم سچ کہہ رہی ہو؟” امرینہ نے حیرت سے پوچھا تھا کیونکہ ابھی تو ان سب نے دیکھا تھا کہ کس طرح سیف اس کی ڈھال بنتا محبت سے ہالہ کو تکتا، وضاحت دیتا وہاں سے ہالہ کو لے گیا تھا “اگر تم میں اتنا بھی اعتماد نہیں تھا کہ پارٹی میں خود کو سنبھال پاتی تو آئی ہی کیوں تھی؟

، میری بے عزتی کرنے؟، جانتی ہو کتنا ذلت بھرا احساس تھا ااپنی بیوی .کو اس طرح اعتماد سے عاری ڈری سہمی. دیکھنا” سیف اسے مجمع سے .الگ تھلگ لے جاکر کرسی کی جانب ڈھکیلتا غرایا تھا . یہ صرف میں اپنی مام کے لئے کررہا ہوں . تاکہ وہ ہرٹ نا ہو ، اس لئے یاد رکھنا ہر مرتبہ. میں تمہیں نہیں بچاوں گا، کہی. بھی جاو تو اپنے ذمہ داری پہ جاو” سیف ایک ہاتھ ٹیبل. پہ رکھے اور دوسرا ہاتھ ہالہ کے چیئر پہ. رکھے ہالہ کے چہرے میں جھکا وہ غصے. سے پھنکارتے ہوئے کہہ رہا تھا .آنسوں بھری آنکھوں سے غیض و غضب کا شکار ہوتے. سیف کو دیکھتی ہالہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر. وہ اپنے آنسوں کو رخسار پہ بہنے سے. روک نہیں پائی

یار کہاں ہو تم۔ کیک کا آڈر تم نے ہی دیا تھا ناں؟

“تمہارے مگر مچھ جیسے آنسوں میری معصوم سی مام کو تو پگھلا سکتے ہیں مگر مجھے نہیں ” سیف ہالہ کے آنسوں دیکھ مزید طیش میں آتا اس کی تھوڑی جکڑ کر پھنکارا تھا “اور ہاں ادھر ہی بیٹھی رہنا ، مجمع میں آنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ تمہاری اتنی اوقات جو نہیں ہیں” آگ جیسے لہجے میں اسے جی بھر کر بے عزت کرنے کے بعد تھوڑی کو جھٹکے سے چھوڑتا وہ اسے ذلت کی آگ میں ڈھکیلتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “سیف بابا یہ رہا آپ کا ناشتہ ” کچن میں داخل ہوتے سیف کو دیکھ حسینہ اماں نے فورا ناشتے کی ٹرے ڈائننگ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے کہا تھا اور وہ جو ہالہ کو کچن میں دیکھنے کی امید کئے ہوئے تھا وہاں حسینہ اماں کو دیکھ ٹھٹھکا تھا

کل رات پارٹی کے بعد سے وہ اسے نظر نہیں آئی تھی ، نا ہی کمرے میں آئی تھی ، پھر وہ رات بھر کہاں رہی تھی؟، مام کے پاس؟، نہیں اگر مام کو خبر ہوتی کہ اس نے ہالہ کے ساتھ کیسا مس بہیو کیا تھا تو وہ اسی وقت سیف کی خبر لیتیں تھی؟، تو پھر وہ کہاں تھی؟، “اماں میں ابھی آیا” کہتے ہوئے وہ گیسٹ روم آیا تھا ، بیڈ پہ اسے ہالہ کا ڈوپٹہ پڑا نظر آیا ساتھ ہی واش روم سے پانی گرنے کی بھی آواز آ رہی تھی، تو وہ رات میں گیسٹ روم میں تھی ؟، وہ جانے کے لئے واپس پلٹا تبھی واش روم کا دروازہ کھول کر ہالہ باہر نکلی تھی، جسے دیکھ سیف منجمد ہوا تھا، وہ ڈھلیے ڈھالے براون پلازو پہ سلیو لیس ٹاپ پہنے ہوئے تھی،

یار کہاں ہو تم۔ کیک کا آڈر تم نے ہی دیا تھا ناں؟

کمر سے بھی نیچے جاتے .بال کھلے اور اس کے نازک وجود کے .گرد گھیرا ڈالے ہوئے تھے، سیف کی ڈھڑکنیں بے ساختہ ہالہ کو اس نئے لک میں دیکھ بے ترتیب ہوئی تھی، وہ دن بدن اسے ایک نئی. شخصیت میں ڈھلتی نظر آتی تھی، واش روم. سے نکلتی ہالہ کی نگاہیں جیسے ہی سیف پر پڑی وہ بری طرح بوکھلائی تھی اور پھر اپنی ہیت کذائی پہ وہ شرم سے سرخ ہوتی بیڈ پہ .پڑے ڈوپٹہ کی جانب دوڑی تھی کہ سیف نے. اسے بیچ میں ہی روک لیا تھا “کمال ہے تم مجھے ہر روز مختلف کیوں نظر آتی ہو؟” ہالہ کو کلائی سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچتے. ہوئے اس نے کہا تھا ہالہ اس افتاد پہ حیران. بھی ہونے نہیں پائی تھی

کہ اس سے جاٹکرائی تھی، تیز دلفریب خوشبوں کا بھبھکا ہالہ کی نتھنو سے ٹکرایا تھا وہ فورا سبھنلتی ہوئی اس سے دور ہٹی تھی، مگر سیف اپنا دوسرا بازو ہالہ کے کمر کے گرد حمائل کرتا اسے مزید قریب کرگیا تھا، جس پر ہالہ نے حیرت سے اپنی سوجی اور سرخ پلکوں کو اٹھا کر اسے دیکھا تھا، سیف کو بھلا کیا ہوگیا تھا؟، کیا اسے اب اس سے نفرت نہیں ہورہی تھی؟، اسے اپنی پہلی رات یاد آئی جب سیف نے اسے بیڈ پر تک بیٹھنے نہیں دیا تھا، اور اس وقت وہ اسے قریب کیا ہوا تھا سیف ٹرانس کی سی کیفیت میں ہالہ کا دھلا چہرہ دیکھ رہا تھا، جس کے چہرے سے پانی کے قطرے پھسل پھسل کر گریبان بھیگا رہا تھا، آج کا ناشتہ تم نے کیوں نہیں بنایا۔

یار کہاں ہو تم۔ کیک کا آڈر تم نے ہی دیا تھا ناں؟

سیف پانی کے .ایک قطروں کو اس کے رخسار سے شھادت کی.انگلی پہ سیمٹتے پوچھا، جو پیشانی .سے رخسار پر پھسل آیا تھا “اگر. آپ کو یاد ہوتو آپ نے ہی. حکم دیا تھا کہ میں آپ کو صبح. صبح اپنی منحوس شکل نا دیکھاوں، تاکہ آپ کا پورا .دن نحوست میں نا گذرے، اور اب. آپ کو کیا ہوگیا؟، کیا اب آپ کا. دن نحوست میں نہیں گزرے گا؟”. ہالہ نے عجیب سے نظر آتے. سیف کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا تھا ، اور ساتھ ہی. خود کو اس کے گرفت سے چھڑنے. کے لئے جد و جہد کی. ہالہ کے تلخ لہجے نے جیسے ہوش. گنوائے سیف کو ہوش میں لایا تھا. ہاں تو کیا ہوا؟، تم میرے حکم کی پابند ہو . شوہر ہوں تمہارا، ہر معاملے کا اختیار. رکھتا ہوں”

سیف نے اب کی مرتبہ کروفر سے نہایت ہی استحقاق سے اس کی کمر پر گرفت مزید مضبوط کرتے ہوئے کہا تھا اور ساتھ ہی ہالہ کی تھوڑی جکڑ کر اونچا کیا سیف کی تحکمانہ رویہ اور لہجہ نے ہالہ کے اندر جیسے آگ لگا دی تھی، اس کا مطلب کیا تھا ؟، شوہر ہے تو اس کا مطلب کہ وہ جب چاہئے بیوی کو دھتکار دے، اور جب چاہئے اپنے قریب کرلے، اور بیوی؟، اس کا کیا؟ کیا بیوی کی کوئی عزت نہیں تھی؟، جذبات نہیں تھے؟ “اچھا ، آپ کی وہ نفرت کہاں گئی؟، میں تو بدصوت تھی نا؟، ان پڑھ جاہل، آپ کے قابل نہیں تھی، پیروں کی دھول تھی، تو کیا اب خوبصورت ہوگئی یا آپ کے قابل بن گئی؟، یا سیف الرحمن صاحب کے برابر آگئی ہوں

یار کہاں ہو تم۔ کیک کا آڈر تم نے ہی دیا تھا ناں؟

جو وہ مجھے اپنی قربت سے سرفراز کرنا چاہتے ہیں؟” ہالہ نے سیف کی مغرور آنکھوں میں نہایت زہر زہر ہوتے ہوئے طنز کیا تھا “تم جیسی دو ٹکے کی لڑکی کبھی بھی مجھ سے برابری نہیں کرسکتی، ہمیشہ میرے پیروں کی دھول ہی رہو گی، تم پر ترس کھاتے ہوئے تم پر مہربان ہوجاتا مگر اب نہیں” سیف ہالہ کے زہر خند طنز پہ بلبلا اٹھا تھا، اس کی انا اور تکبر پر بہت زور کا کوڑا مار گئی تھی ہالہ، ہالہ کی تھوڑی بے دردی سے سختی سے دبوچے کہتا وہ جھٹکے سے بیڈ پر دھکا دیتا ہوا غرایا تھا جو سیدھے بیڈ پہ جاگری تھی، سیف کے شدید اشتعال نے ہالہ کو خوفزدہ کیا تھا، کیا وہ اب اس پر ہاتھ ماٹھائے گا؟، مما جب بھی اس طرح کی زبان درازی کرتیں تھیں

بابا ان پر ہاتھ اٹھاتے تھے، “اوقات میں رہنا سیکھ لو ورنہ اوقات میں رکھنا آتا ہے مجھے” بیڈ پر گری سہمی آنکھوں سے اپنی جانب دیکھتی بے حس و حرکت نظر آتی ہالہ کو غصے سے دیکھ وارننگ دیتا، وہاں سے گیا تھا۔ “اوقات۔۔ کیا اوقات ہے تیری ہالہ؟، زمانہ جہالت میں تجھ جیسی کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، وہ خوش قسمت ہوتے تھے کہ ایک مرتبہ ہی درد و اذیت سہتے تھے اور مر جاتے تھے، مگر اب جب زمانہ جہالت کا خاتمہ ہوچکا تھا پھر بھی تجھے نجانے کتنی مرتبہ زندہ درگور کیا جائے گا ، اور ہر مرتبہ نئے سرے سے اذیت اور ذلت کو سہنا ہوگا اور موت بھی نہیں آئیگی” وہ اذیت سے روتے ہوئے خود کو مخاطب کررہی تھی،

یار کہاں ہو تم۔ کیک کا آڈر تم نے ہی دیا تھا ناں؟

خود پر ترس کھارہی تھی، کاش وہ سب کچھ ہوتی ایک عورت نا ہوتی، زمانہ جہالت میں بھی عورتیں یہی تمنا کیا کرتیں تھیں، اور اب جب جہالت کازمانہ نہیں رہا مبارک علم نبوت کی روشنی چاروں جانب پھیل گئی تب بھی بعض عورتیں یہی تمنا کرتیں تھیں، تو پھر کیا فرق رہ گیا تھا زمانہ جہالت، اور زمانہ علم میں ؟،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں